Al-Risala · January 2018

چپ رہنا بھی کام ہے

Al-Risala, January 2018, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرِ اسلام نے اپنی امت کو ایک حکیمانہ نصیحت ان الفاظ میں بتائی ہے: إذا قلت لصاحبك يوم الجمعة : أنصت، والإمام يخطب، فقد لغوت (صحیح البخاری، حدیث نمبر 934)۔ یعنی جب امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو: چپ رہ، تو تم نے ایک لغو کام کیا۔

اگر مسجد کا امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہے، اور اس وقت کوئی شخص بول پڑے تو سننے والے کو اشارے سے اس کو چپ کرانا چاہیے ۔ اگر وہ خود بھی بول کر اس کو چپ کرائے تو یہ ایک لغو (nonsense) کام ہوگا۔ کیوں کہ پہلے صرف ایک آدمی بولنے والا تھا، اب بولنے والے دو

گویا مسئلہ میں اضافہ ہو گیا۔ اس قسم کا طریقہ بلاشبہ ایک لغو طریقہ ہے۔ اس حکمت کا تعلق صرف مسجد کی نماز سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں دخل دینا، معاملے کو اور زیادہ بگاڑنے کا سبب بن جانا ہے۔ ایسے موقعوں پر دانش مندی یہ ہے کہ آدمی خاموشی کا طریقہ اختیار کرے، وہ ہر گز دخل اندازی کر کے معاملے کو زیادہ پیچیدہ نہ بنائے۔ یہ ایک دانش مندی کی بات ہے کہ آدمی یہ جانے کہ کب اسے عمل کرنا ہے، اور کب عمل نہیں کرنا ہے۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی معاملے میں انجام کو سوچے ۔ وہ جانے کہ کب بولنا ہے، اور کب چپ رہنا ہے۔ کب آگے بڑھنا ہے، اور کب پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ کب اقدام کرنا ہے، اور کب اقدام سے آخری حد تک اپنے آپ کو بچانا ہے۔ کب جیتنے کی کوشش کرنا ہے، اور کب اپنی ہار مان جو لوگ اس دانش مندی کے حامل ہوں، وہی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، اور جو لوگ اس دانش مندی سے بے خبر ہوں، ان کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سوچے سمجھے بغیر کسی معاملے میں کود پڑیں، اور اس کے بعد جب فطری قانون کے تحت وہ بربادی سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ظلم کے خلاف کبھی ختم نہ ہونے والی شکایت کا دفتر کھول دیں۔

Printed page