دین کا نقطہ آغاز
Al-Risala, September 2018, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (1:2)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ دین کا نقطہ آغاز اللہ رب العالمین کی دریافت پر مبنی ہے۔ یعنی اہلِ دین کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کریں۔ اس کے بعد وہ دینی زندگی کی تعمیر کریں۔ اس ترتیب کو اختیار کرنے سے انسان کے اندر حقیقی معنی میں دینی شخصیت بنے گی۔ اس کے برعکس، کوئی دوسری ترتیب اختیار کی جائے تو دینی شخصیت کی تعمیر و تشکیل نہ ہو سکے گی۔
انسان کی حکومت کا جب آپ تصور کرتے ہیں، تو آپ کے ذہن میں یہ نقشہ آتا ہے کہ ایک با اقتدار صدر یا وزیرِ اعظم ملک کی زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے، اور پورے ملک کو اپنے نقشے کے مطابق کنٹرول کر رہا ہے۔
یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر اور کامل صورت میں اللہ رب العالمین کا ہے۔ اللہ اس دنیا کا حاكم اعلىٰ ہے۔ وہ پوری دنیا، خواہ وہ مادی دنیا ہو یا انسانی دنیا، اس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے لیکن دونوں میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک مادی کائنات کا معاملہ ہے، اللہ رب العالمین اس دنیا کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا کے معاملے میں جزوی طور پر انسان کو آزادی دے دی گئی ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خود انضباطی (self-imposed discipline) کے تحت اللہ رب العالمین کے آگے جھک جائے۔ حکومت الہیہ قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اپنے آپ کو حکومتِ الہیہ کا پابند بنانا ہے۔ دین کا یہی آغاز امت مسلمہ سے مطلوب ہے۔ بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مدرسوں میں دین کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں درست ترتیب کے ساتھ کام نہیں ہو رہا ہے۔ یعنی مدارس کا طریقہ ہے مسائل کی پابندی سکھانا، جب کہ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا نقطہ آغاز معرفتِ رب ہے، یعنی اللہ رب العالمین کی دریافت، اور انسانی شخصیت کی تعمیر۔