Al-Risala · September 2018

عارفانہ صحبت کیا ہے

Al-Risala, September 2018, pp. 9–10

By Maulana Wahiduddin Khan

سچی صحبت وہ ہے، جو معرفت کی صحبت بن گیا ہو۔ مثلاً قرآن میں ایک واقعے کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ - وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ (84-5:83)۔ یعنی جب وہ اُس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔

قرآن کے اس حصے میں ایک صحبتِ رسول کا ذکر ہے۔ اُس صحبتِ رسول میں کچھ لوگوں نے پیغمبر کی زبان سے قرآن کا ایک حصہ سنا۔ قرآن کے اس حصے کو سن کر ان کو معرفتِ رب کا تجربہ ہوا۔ یہ تجربہ اتنا گہرا تھا کہ وہ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑا ۔ یہ ایک عارفانہ سنت رسول کا بیان ہے۔ جس طرح رسول اللہ کی دوسری سنتیں قابل اتباع ہیں، اسی طرح آپ کی یہ سنت بھی اس قابل ہے کہ وہ اہلِ دین کی مجلسوں میں زندہ ہو۔ قرآن کا سچا تذکرہ وہی ہے، جو لوگوں کے دل ودماغ کو ہلا دے۔ جو سننے والے کے اندر معرفت کا طوفان پیدا کر دے۔ جو آنسوؤں کی صورت میں آنکھوں کے راستے بہہ پڑے۔

انسان کے جسم سے بہت سی چیزیں نکلتی ہیں، مثلاً آنسو، پسینہ، وغیرہ۔ ان میں آنسو ایک مختلف چیز ہے۔ آنسو انسان کے جسم سے نکلنے والا سب سے زیادہ خالص (purest) مادہ ہے۔ آنسو ایک ایسی چیز ہے، جو صرف اس وقت نکلتا ہے، جب کہ آدمی کو معرفت کا تجربہ ہو جائے۔ بندے کی طرف سے اپنے رب کے لیے سب سے زیادہ خالص تحفہ (purest gift) ہے جو کبھی

رد (reject) نہیں ہوتا۔ اسی لیے آنسو صرف اللہ کے لیے ہے، آنسو کسی غیر اللہ کو دینے کی چیز نہیں۔

قرآن میں مذکورہ واقعے میں اس لمحے کا ذکر ہے، جب کہ ایک متلاشی (seeker) انسان ایک صاحبِ معرفت انسان سے ملتا ہے۔ یہ ملنا کوئی سادہ ملنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ذہنی طوفان (brainstorming) کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے، جب کہ دو سچے انسانوں کے درمیان ربانی ملاقات کا عمیق تجربہ ہوتا ہے۔ اس ملاقات میں ایک تیسری ہستی شامل ہو جاتی ہے، اور وہ اللہ رب العالمین کے فرشتے ہیں۔ فرشتوں کی شمولیت کی بنا پر یہ ملاقات ایک ربانی قربت کا لمحہ بن اس ربانی ملاقات کے دوران دینے اور پانے کا ایسا تجربہ مل جاتا ہے، جس میں تبادلے کا ذریعہ الفاظ نہ ہوں، بلکہ آنسو ہوں۔ جب کہ دلوں کے دروازے کھل جائیں، اور دماغ کی کھڑکیاں اس طرح کھل جائیں کہ اس کا کوئی دروازہ بند نہ رہے۔

یہ رسول اللہ کی ایک صحبت کا واقعہ ہے، جو قدیم مدینہ میں پیش آیا۔ یہ واقعہ صرف مقدس کلام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک سنتِ رسول کا کیفیاتی بیان ہے۔ جس طرح رسول اللہ کی دوسری سنتیں قابلِ اتباع ہیں، اسی طرح آپ کی عارفانہ سنتیں بھی اس قابل ہیں کہ وہ اہلِ دین کی مجلسوں میں زندہ ایک صاحبِ معرفت عالم کی صحبت ایک زندہ صحبت ہے۔ وہ حاضرین کے اندر ذہنی طوفان (brainstorming) کا سبب بن سکتی ہے۔

آپ کسی عالم کی کتاب پڑھیں، اس سے بھی آپ کو فائدہ ہوگا۔ لیکن جب آپ ایک سچے عالم کی صحبت میں بیٹھتے ہیں، تو یہ بیٹھنا، آپ کے لیے ایک زندہ تجربہ بن جاتا ہے۔ کتاب اگر آپ کو معلومات دیتی ہے تو ایک عارف کی صحبت سے آپ کو حکمت (wisdom) کا خزانہ مل سکتا کتاب کا مطالعہ آپ کی واقفیت میں اضافہ کرتا ہے۔ لیکن ایک عارف کی صحبت آپ کو بتاتی ہے کہ معرفت کا زلزلہ کیا چیز ہے۔ سچی صحبت وہ ہے، جو معرفت کی صحبت بن جائے، جس سے آپ کو رزق رب ملنے لگے۔

Printed page