Al-Risala · January 2018

انتظار کی حکمت

Al-Risala, January 2018, pp. 42–43

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی کی ایک حکمت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بتائی ہے : أفضل العبادة انتظار الفرج (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3571)۔ یعنی کشادگی کا انتظار کرنا، ایک افضل عبادت ہے۔ انسان جب کوئی کام کرتا ہے، تو اس میں ایک فیصد حصہ اس کی اپنی کوشش کا ہوتا ہے، اور ننانوے فیصد حصہ فطرت کے قانون (law of nature) کا۔ قانون خالق کا مقرر کردہ ہے، وہ اپنی رفتار سے چلتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر انسان جلدی نہ کرے، اور انتظار کی پالیسی اختیار کرے تو گویا کہ وہ فطرت کے عمل (process) کی تکمیل کا انتظار کر رہا اس بنا پر اس کا انتظار ایک عبادت بن جاتا ہے۔ اس قسم کی عبادت ایک اعلیٰ درجے کی حکمت

ایک مسیحی پادری اپنے گھر کے سامنے ایک ہرا بھراااا درخت دیکھنا چاہتا تھا۔ انھوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ ایک ہرا بھر درخت لائیں، اور اپنے گھر کے سامنے اس کو لگادیں۔ انھوں نے کچھ مزدوروں کی مدد سے ایسا ہی کیا۔ لیکن اگلی صبح کو جب وہ اٹھے تو درخت کے پتے مرجھا چکے تھے۔ دن کے بعد درخت پوری طرح سوکھ گیا۔ اس وقت ان کے ایک دوست ان سے ملنے کے لیے انھوں نے دیکھا کہ اس کا پادری دوست بہت زیادہ غمگین ہے۔ دوست نے اس کا سبب پادری نے کہا، میں جلدی میں ہوں، مگر خدا جلدی نہیں چاہتا:

Printed page