تخلیق کے دوا دوار
Al-Risala, September 2018, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ بتاتی ہے کہ انسان پر ترقی کے دو دور گزرے ہیں۔ ایک وہ ترقی جو فطرت کے دائرے میں انسان کو حاصل ہوئی۔ دوسری وہ ترقی جو بعد کو انسان نے فطرت کے اندر چھپی ہوئی طاقتوں کو دریافت کر کے حاصل کیا۔ پہلے دور کو تخلیق اول (first creation) کا دور کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے دور کو تخلیق ثانی (second creation) کا دور کہنا درست ہوگا۔ یہ دونوں دور خود تخلیق کا لیکن پہلا دور اگر تخلیق کا براہ راست حصہ تھا، تو دوسرا دور تخلیق کا بالواسطہ حصہ۔ تخلیق کے ان دونوں ادوار کا ذکر قرآن کی اس آیت میں آیا ہے: وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8)۔ یعنی اور اللہ نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی، اور وہ اور بھی چیزیں پیدا کرے گا جو تم
And (He has created) horses, mules and donkeys so that you may ride them and that they may serve as means of adornment (for you) as well and He will create that you do اس آیت کے دو حصے ہیں۔ اس کے پہلے حصے میں تین فطری چیزوں کا ذکر ہے، گھوڑا، خچر، ان تینوں چیزوں کا ذکر یہاں علامتی معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جب پیدا کیا تو ابتدائی دور میں اس کو ہر قسم کی سہولتیں فطرت کے دائرے میں عطا کی۔ مثلاً سواری اور بار برداری کے لیے حیوانات، پانی کے لیے دریا اور چشمہ کا پانی، غذا کے لیے زمین کی فطری پیداوار، یہ گویا تخلیق اول کا دور تھا۔ قرآن کی آیت کے مطابق، اسی کے ساتھ اللہ نے زمین کے اندر بہت سی اور چیزیں بالقوہ (potential) طور پر رکھ دیں۔ اس کو آج کل کی زبان میں ٹکنالوجی کہا ٹکنالوجی زندگی کے تمام ترقیاتی سہولتوں کو کور (cover) کرتی ہے۔ مگر یہ ٹکنالوجی قانون
فطرت کی شکل میں پوشیدہ طور پر ہماری دنیا میں موجود تھی۔ انسان کو اللہ نے عقل دی۔ عقل کے ذریعہ انسان نے فطرت کے ان قوانین کو دریافت کر کے ان کو قابلِ اسییتعمال بنایا۔ یہاں تک کہ ترقی کرتے کرتے ٹکنالوجیکل تہذیب (technological civilization) وجود میں آئی۔ ٹکنالوجیکل تہذیب کو تخلیق کا دوسرا دور یا تخلیق ثانی کہا جا سکتا ہے۔
اس ٹکنالوجیکل تہذیب میں بیک وقت دو پہلو شامل تھے۔ ایک پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے انسان کو نئی مادی سہولتیں حاصل ہوئیں۔ مثلاً گھوڑے کی جگہ سواری کے لیے موٹر کار اور ہوائی اس کے ساتھ تخلیق ثانی کا ایک اور زیادہ اہم پہلو تھا۔ وہ یہ کہ اس کے ذریعے خدا کے دین پر عمل کرنا زیادہ وسیع تر دائرے میں ممکن ہو گیا۔ تہذیب کا یہ دوسرا پہلو وہ ہے، جس کو دو راول کے اہل ایمان کی ایک قرآنی دعا میں مستقبل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا تھا: رَبَّنَا وَلَا تُحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرَاً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286) ۔ یعنی اے ہمارے رب، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔
دین کے اعتبار سے تہذیبی ترقیوں کے دو پہلو تھے۔ ایک، نظریاتی پہلو اور دوسرا، عملی پہلو۔ نظریاتی پہلو یہ تھا کہ تہذیب کے دور میں جو سائنسی دریافتیں ہوئیں، وہ نئی قوت کے ساتھ اسلام کی علمی تصدیق بن رہی تھیں۔ تہذیب کے اس پہلو کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں پیشگی طور پر کیا گیا تھا: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔
قرآن اللہ کے دین کا مستند اعلان ہے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوا۔ میں دینِ خداوندی کے صداقت کے دلائل موجود تھے۔ مگر وہ بظاہر سادہ فطری اسلوب میں تھے۔ نے مادی دنیا کے اندر بہت سے امکانات قوانینِ فطرت (laws of nature) کی صورت میں پوشیدہ طور پر رکھ دیے تھے۔ مثلاً پانی کے اندر اسٹیم پاور، وغیرہ۔ اس کے ساتھ انسان کو عقل دی، جس
کے ذریعے وہ ان قوانین فطرت کو دریافت کرے، اور ان کو اپنے لیے استعمال کے قابل بنائے۔ قوانین کو دریافت کر کے ایک نئی تہذیب (civilization) کو وجود میں لانے کے لیے لمبی مدت اس عمل پر تقریباً ہزار سال گزر گئے۔ یہ عمل مختلف مراحل کے ساتھ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ حضرت نوح نے قدیم زمانے میں جب ایک بڑی کشتی بنائی تو اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا (23:27)۔ یعنی ہم نے اس کو وحی کی کہ تم کشتی تیار کرو ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً یہی معاملہ جدید تہذیب کی تشکیل کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت نوح نے ملائکہ کی مدد سے کشتی بنائی تھی۔ اسی طرح دورِ جدید میں انسانوں نے اللہ کی خصوصی رہنمائی (divine inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کی۔ گویا اللہ نے انسان کو الہامی زبان میں دوبارہ یہ کہہ کر حکم دیا تھا: اصنع الحضارة باعيننا و وحینا۔ یعنی ہماری نگرانی میں اور ہمارے انسپریشن (inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کرو۔ اسی کو جدید اصطلاح میں سرنڈپٹی (serendipity) کہا جاتا ہے۔
تہذیب کی تشکیل کا یہ کام ایک بے حد تخلیقی کام ہے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ دوسری قوموں کو اس کی تعمیر و تشکیل میں شامل کیا جائے۔ اس واقعے کا ذکر پیشگی طور پر حدیث میں بیان کر دیا اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ اسلام کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہل دین میں سے نہ ہوں گے گے(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔