Al-Risala · September 2018

نبوت محمدی کا ظہور

Al-Risala, September 2018, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں ہوا۔ خدا کے منصوبہ کے مطابق، یہ ایک فرد (خاتم النبیین) کے ظہور کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ ایک نئے تاریخی دور کو پیدا کرنے کا معاملہ یہ انقلابی دور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے، بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں مکمل ہوا۔

انقلاب کے پہلے مرحلے میں جورول مطلوب تھا، وہ زیادہ تر اہل ایمان کے ذریعے وجود میں آیا۔ رول یہ تھا کہ اسلام کو سماجی اور سیاسی اعتبار سے استحکام (stability) حاصل ہو جائے، قرآن محفوظ ہو جائے، امت مسلمہ کی تشکیل عمل میں آ جائے، علوم اسلامی کی تدوین وقوع میں آجائے، دین توحید کا تسلسل اسی طرح قائم ہو جائے جس طرح اس سے پہلے دین شرک کا تسلسل تاریخ میں قائم ہو گیا تھا، وغیرہ۔

اس سلسلے میں دوسرا کام جو مطلوب تھا، وہ دین اسلام کی عالمی اشاعت تھی۔ دین اسلام کی اس عالمی اشاعت کے لیے ابتدائی زمانے میں حالات مساعد نہ تھے۔ تہذیب جدید نے بالواسطہ طور پر اس کام کو انجام دیا۔ تہذیب جدید کے ذریعے دنیا میں ایک طرف پرنٹنگ پریس اور مواصلاتی دور (age of communication) وجود میں آیا، دنیا میں مکمل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور آیا، فطرت (nature) میں موافق اسلام چھپے ہوئے حقائق دریافت ہوئے اور عمومی طور پر وہ ہر ایک کی دسترس میں آگئے، دنیا میں پہلی بار کامل معنوں میں کھلا پن (openness) کا دور آیا، دنیا میں پہلی بار ممکن ہوا کہ ہر آدمی کے لیے مواقع (opportunities) کے دروازے مکمل طور پر کھل گئے۔ صرف ایک شرط کے ساتھ کہ آدمی تشدد (violence) سے مکمل طور پر پرہیز کرے ۔ اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ دنیا میں کمیونی کیشن کا دور آیا، فاصلہ کا مسئلہ ختم ہو گیا۔ بعید مقام تک پیغام رسانی آخری حد تک آسان اور قابل عمل ہو گئی ۔ یہ پہلو دعوت کے اعتبار سے بے حد اہم تھا۔ چنانچہ قرآن میں اس آنے والے انقلاب کی طرف پیشگی طور پر اشارہ کر دیا گیا تھا۔ اشارہ اس واقعہ کی صورت میں تھا جس کو قرآن میں اسراء (بنی اسرائیل، 17:1) کہا گیا ہے۔ مکی دور کے آخری زمانے میں وہ واقعہ پیش آیا، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پراسرار طور پر مکہ سے یروشلم لے جایا گیا۔ مکہ سے یروشلم اور پھر یروشلم سے مکہ واپس لایا گیا۔ یہ سفر دو طرفہ اعتبار سے تقریباً 4000 کلومیٹر کا سفر تھا۔ قرآن میں اس سفر کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ

لَنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا (17:1)۔ یعنی پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں

اس سفر میں آپ کو جو نشانی (sign) دکھائی گئی وہ یروشلم کی کوئی چیز نہ تھی، بلکہ اس سے مراد وہی چیز تھی جس کو قرآن میں اسرا کہا گیا ہے۔ یعنی مکہ اور یروشلم کے درمیان تیز رفتار سفر۔ رفتار سفر کا تجربہ اُس وقت آپ کو علامتی طور پر کرایا گیا۔ اس کا مقصد پیشگی طور پر اُس واقعے کو بتانا تھا، جو آپ کے بعد تاریخ میں مواصلاتی دور (age of communication) کی صورت میں پیش آنے والا تھا۔ یہ مواصلاتی دور جو جدید تہذیب کے ذریعے دنیا میں آیا، وہ اسلام کے دعوتی مشن کے لیے ایک بہت بڑا موافق پہلو تھا۔ اس انقلاب نے عملی طور پر اس بات کو ممکن بنا دیا کہ اسلام کا پیغام تیز رفتار ذرائع سے ساری دنیا میں پہنچایا جاسکے۔

Printed page