I am in hurry, but God isn't
Al-Risala, January 2018, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا مطلب یہ تھا کہ خدا کے قانون کے مطابق، اپنے گھر کے سامنے ایک ہرا بھر درخت دیکھنے کے لیے مجھے دس سال کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر میں چاہوں کہ ایک دن کے اندر میرے گھر کے سامنے ہرا بھر درخت کھڑا ہو جائے تو ایسا ہونا فطرت کے قانون کے مطابق ممکن نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کوئی منصوبہ بنائے تو اپنی خواہش کی بنیاد پر منصوبہ نہ بنائے، بلکہ غور کر کے یہ سمجھے کہ فطرت کے قانون کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے کتنی مدت درکار ہے، اور اس مدت کو اپنے پروگرام کا جزء قرار دے۔ یہی اس دنیا میں دانش مندی کا اصول ہے۔ ٹکراؤ کے بغیر کامیابی پیغمبر اسلام نے زندگی کی ایک حکمت کو ان الفاظ میں بتایا ہے: نصرت بالرعب علی العدو (صحیح مسلم، حدیث نمبر 523)۔ یعنی مجھے رعب کے ذریعہ دشمن پر مدد دی گئی ہے۔ یہ پیغمبر کی فضیلت کی بات نہیں ہے، بلکہ فطرت کے قانون کے مطابق یہ اعلیٰ تدبیر کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ردعمل (reaction) کے بجائے مثبت انداز میں اپنے عمل کا منصوبہ بناؤ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر تمھیں کسی کی طرف سے عداوت کا سامنا ہو تو عداوت کے مقابلے میں جوابی عداوت کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ عداوت کے جواب میں پر امن تدبیر کا طریقہ اختیار کرو۔ پرامن تدبیر تم کو اس قابل
بنائے گی کہ تم کسی ٹکراؤ کے بغیر صرف پر امن تدبیر سے کامیابی حاصل کرلو۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ یہ حسن تدبیر کی اثر انگیزی کا معاملہ ہے، نہ کہ کسی پر اسرار فضلیت کا معاملہ۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلاَ تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلاَ السِّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34) یعنی بھلائی اور برائی برابر نہیں، تم دور کرو اس سے جو بہتر ہو، تو تم دیکھو گے کہ تمھارے اور جن کے درمیان دشمنی ہے وہ گویا قریبی دوست بن گیا۔