Al-Risala · January 2018

چھوٹی برائی پر راضی ہونا

Al-Risala, January 2018, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کے معاصر اہل ایمان کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ یہ اصحاب رسول مسلسل طور پر پیغمبر اسلام کے زیر تربیت تھے۔ اصحاب رسول نے کچھ باتوں کو پیغمبر اسلام کی طرف منسوب کر کے ان کو قول رسول کے طور پر بیان کیا ہے، ان کو حدیث کہا جاتا ہے۔ اس کے سوا بہت سی باتیں ایسی ہیں، جن کو اصحاب رسول نے رسول کا حوالہ دیے بغیر اپنے طور پر بیان کی ہیں۔ اس قسم کی باتوں کو اثر کہا جاتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ باتیں بھی پیغمبر اسلام کی تعلیم کردہ باتیں ہیں۔ کتابوں میں وہ آثار صحابہ کے طور پر نقل ہوئی ہیں۔

انھیں میں سے ایک وزڈم کی بات وہ ہے جو صحابی رسول حبیب بن خماشة کے حوالے سے حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس اثر کے الفاظ یہ ہیں: من لا يرضى بالقليل مما يأتي به السفيه يرضى بالكثير (المعجم الاوسط للطبرانی، اثر نمبر 2258) یعنی جو شخص نادان کے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔

یہ ایک دانشمندانہ اصول ہے۔ زندگی میں کامیابی کے لیے یہ بے حد ضروری اصول ہے۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے ہر انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ یہ آزادی براہ راست طور پر خالق کا ایک کوئی بھی شخص اس آزادی کو انسان سے چھین نہیں سکتا۔ یہ آزادی برائے امتحان ہے۔ اللہ رب العالمین کو دیکھنا ہے کہ کون شخص اپنی ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے، اور کون

شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اسی صحیح استعمال یا غلط استعمال پر انسان کے ابدی انجام کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ یہ آزادی خالق کے تخلیقی منصوبہ کا ایک حصہ ہے، اور جو چیز تخلیقی منصوبہ کا حصہ ہو اس کو ختم کرنا کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیں۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے۔ یا تو وہ دوسرے انسانوں کی آزادی کو روکنے کے لیے ہمیشہ ان سے لڑتا رہے، اور کبھی کامیاب نہ ہو سکے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ آدمی اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے آرٹ آف مینجمنٹ (art of management) کو سیکھے۔ وہ دوسروں کی ناپسندیدہ روش کو بچ کرتے ہوئے اپنا راستہ بنائے۔ یعنی وہی طریقہ جس کو شارع عام (public road) پر چلتے ہوئے ہر آدمی اختیار کرتا ہے، اور کامیابی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔

اس اصول کو استعمال کرنے کی صورت میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کی آزادی سے کچھ نقصان پہنچے گا۔ دانش مند آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے نقصان کو نظر انداز اگر وہ ایسا کرے کہ اس قسم کے نقصان کو برداشت کرنے کے بجائے، اس پر لڑائی شروع کر دے تو ایسا ٹکراؤ صرف اس کے نقصان میں اضافہ کرے گا۔ اس لیے دانش مندی کا اصول یہ ہے کہ کم نقصان پر راضی ہو جاؤ، تاکہ اپنے آپ کو بڑے نقصان سے بچاسکو۔

یہ اصول ایک عام اصول ہے۔ خاندانی زندگی میں بھی، سماجی زندگی میں بھی، اور قومی زندگی میں عقل مند آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے نقصان کو تجربہ (experience) کے خانے میں ڈال دے۔ وہ ایسے نقصان سے سبق سیکھے۔ وہ ایسے نقصان سے اپنے لیے بہتر منصوبہ بندی (planning) کا راز

Printed page