Al-Risala · January 2018

عقل مندی کی پہچان

Al-Risala, January 2018, pp. 45–51

By Maulana Wahiduddin Khan

عمرو بن العاص پیغمبر اسلام کے ایک صحابی تھے۔ ان کا ایک قول کتابوں میں اس طرح نقل کیا گیا ہے: ليس العاقل الذي يعرف الخير من الشر، ولكن العاقل الذي يعرف

خیر الشرین (المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 670) ۔ یعنی دانش مند آدمی وہ نہیں ہے، جو خیر اور شر کو جانے لیکن دانش مند آدمی وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے بہتر کون سا ہے۔ صحابی رسول کا یہ قول زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتا تا ہے۔ وہ یہ کہ زندگی میں انتخاب (option) خیر اور شر کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ کسی صورت حال میں اس کے لیے کمتر درجہ کی برائی (lesser evil) کیا ہے۔ مثلاً سڑک پر آپ کی کسی سے ٹکر ہو گئی تو یہ کمتر درجہ کا مسئلہ ہے۔ لیکن ایسا ہونے پر اگر آپ کو غصہ آجائے، ، اور آپ لڑنا شروع کر دیں تو اس کے بعد دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جائے گی ۔ اور اس کا انجام یہ ہوگا کہ اس کے بعد آپ یا تو اسپتال میں ہوں گے یا قبرستان میں ۔ پہلے اگر آپ کا کپڑا پھٹ گیا تھا تو اب آپ کو ٹوٹے ہوئے ہاتھ پاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے اگر سڑک پر مسئلہ ختم ہو گیا ہوتا تو اب مسئلہ کورٹ میں جائے گا، اور سالوں تک کے لیے آپ کا سکون برہم ہو جائے گا۔

ایسا اس لیے ہے کہ دنیا میں ہر شخص اپنے قول وفعل کے لیے آزاد ہے۔ آپ کسی کے قول و فعل پر پابندی نہیں لگا سکتے ۔ آپ اعراض کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے دوسروں کی منفی کارروائی کے انجام سے خود کو بچا سکتے ہیں۔ اور اگر آپ اعراض کے اصول کو اختیار نہ کریں تو آپ کو ایسے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی کوئی حد نہ ہوگی۔ اس دنیا میں عافیت کا اصول صبر ہے۔ صبر کے سوا جو طریقہ اختیار کیا جائے ، وہ مسئلہ کو صرف بڑھائے گا، وہ مسئلہ کو ختم کرنے والا نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کے پاس بہت تھوڑا وقت ہے، اور اسی طرح بہت ایسی حالت میں یہ ہر شخص کی لازمی ضرورت ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنے وسائل کو منظم انداز میں استعمال کرنا جانے ۔ جو آدمی ایسا نہیں کرے گا اس کو آخر میں حسرت کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔

مستقبل کی پلاننگ مستقبل کی پلاننگ کے لیے پیشگی گائڈلائن پیغمبر اسیلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ہوا۔ آپ خاتم النبیین (Final Prophet) ہیں، آپ کی نبوت کی عمر 23 سال تھی۔ لیکن اللہ کی توفیق سے آپ نے امت محمدی کو پیشگی طور پر ایسی گائڈلائن بتا دی جو انسانی تاریخ کے آخری دور تک کو کور (cover) کرنے والی تھیں۔ پیغمبر اسلام نے امت محمدی کو جو گائڈ لائن دی، اس کا ایک حصہ ایسا تھا جو ہر زمانے کے لیے قابل تطبیق (applicable) تھا۔ یہ حصہ فقہ کی صورت میں مدون ہو گیا۔ مگر اس کے ساتھ دوسرا حصہ وہ تھا جو مستقبل کے اعتبار سے تھا۔ اس حصہ میں پیغمبر اسلام نے معاصر زبان میں مستقبل کی باتیں کہیں۔ دوسرے لفظوں میں روایتی دور میں وہ باتیں کہیں جو بعد کو سائنٹفک ایج میں رہنما بننے والی تھیں۔ اس دوسرے حصہ کو سمجھنے کے لیے صرف قرآن و حدیث کا روایتی علم کافی نہیں۔ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو دور ما بعد، دوسرے الفاظ میں سائنٹفک ایج (scientific age) کا گہرافہم (deep understanding) حاصل ہو، دین کی صرف روایتی معرفت اس کے لیے کافی اس حیثیت سے یہاں موضوع کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

اس پہلو سے غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وسنت میں پہلی نوعیت کی باتیں حکم کی زبان میں ہیں۔ جب کہ دوسری نوعیت کی باتیں خبر کی زبان میں آئی ہیں۔ یہ فرق گویا ایک سراغ (clue) ہے، جو زیر نظر پہلو کا مطالعہ کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

مثلاً قرآن کی آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔

یہاں خبر کے اسلوب میں یہ کہا گیا ہے کہ قرآن عالمین (تمام اقوام عالم) کے لیے نذیر یہاں غور طلب ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں وہ اسباب

موجود ہی نہ تھے، جن کو استعمال کر کے تمام اقوام عالم تک قرآن پہنچایا جائے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت کا متضمن مفہوم (implied meaning) یہ ہے کہ مستقبل میں ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ مختلف زبانوں میں قرآن کے ترجمے تیار کر کے ان کو تمام قوموں تک ان کی قابل فہم زبانوں میں پہنچانا ممکن ہو جائے گا۔ اس وقت امت محمدی کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اس کا منصوبہ بنائے، اور اس کو اس کے تمام تقاضوں کے تحت انجام دے۔ ان الفاظ میں واضح طور پر اس دور کی طرف اشارہ ہے جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس، اور کمیونی کیشن آچکا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ دور آ جائے تب امت محمدی پر اس دور کا استعمال برائے دعوت اسی طرح فرض ہو جائے گا جس طرح نماز اور روزہ ابدی طور پر فرض ہے۔

قرآن میں اس نوعیت کی ایک اور آیت ان الفاظ میں آئی ہے: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الحقّ (41:53)۔ یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ یہاں آفاق سے مراد مادی دنیا (material world) اور انفس سے مراد انسانی دنیا (human world) ہے۔

قرآن کی اس آیت میں آنے والے سائنسی دور کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں امت محمدی کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ جب وہ سائنسی دور دنیا میں آجائے تو تم فوراً اس کو پہچان لینا، اور از سر نو سائنس کی دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں اپنے دعوتی مشن کی منصوبہ بندی کرنا۔ تا کہ لوگوں کو ان کی اپنی مسلمہ عقلی بنیاد (rational ground) پر حقائق اسلام کا اظہار ہو جائے۔ اسی طرح احادیث میں اس نوعیت کی مختلف پیشین گوئیاں آئی ہیں۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق قدیم مکہ کے قریش کے مطالبے پر آپ نے بتایا تھا : كلمة واحدة تعطونيها تملكون بها العرب، وتدين لكم بها العجم (سیرت ابن ہشام، 1/417)

اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اس آنے والے دور کی طرف اشارہ

ہے، جب کہ دنیا میں مکمل طور پر امن (peace) کا زمانہ آجائے گا۔ جب کہ یہ ممکن ہو جائے گا کہ کسی رکاوٹ کے بغیر توحید کی آئیڈیالوجی پر نان سیاسیل ایمپائر قائم کیا جا سکے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ جب وہ دور آجائے تو امت محمدی کو چاہیے کہ وہ نفرت اور تشدد اور جنگ کی تمام صورتوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دے، اور پیدا شدہ مواقع کو پر امن طور پر استعمال کرتے ہوئے توحید کی بنیاد پر ایک نان پولیٹیکل ایمپائر (non-political empire) قائم کر دے۔

اسی طرح پیغمبر اسلام کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر یعنی روئے زمین پر کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گھر نہ بچے گا، مگر اس میں اللہ اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔

اس حدیث میں مستقبل کی امت محمدی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جب یہ دور آجائے تو تم اس دور کو پہچانو۔ اس وقت تم ان تمام سرگرمیوں کو بند کر دو، جس سے اس دور کے مواقع کو استعمال کرنا تمھارے لیے ناممکن ہو جائے۔ اس وقت تم یک طرفہ منصوبہ بندی کے ذریعہ آنے والے مواقع کو پر امن طور پر استعمال کرو، اور دین اسلام کو ہر گھر میں پہنچادو۔ یہ دور جب آئے گا تو وہ اپنے آپ سب کچھ نہیں کر ڈالے گا، بلکہ امت محمدی کو اس وقت کی ضرورت کے مطابق، دانش مندانہ منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔

دورِ دجال کی روایتوں میں سے ایک روایت وہ ہے جس میں دجال کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ دجال جب بولے گا، اس کی آواز مشرق ومغرب میں سنائی دے گی۔ چوتھے خلیفہ علی بن ابی طالب، پیغمبر اسلام کا نام لیے بغیر دجال کے بارے میں کہتے ہیں: ينادي بصوت له يسمع به ما بين الخافقين (كنز العمال، حدیث نمبر 39709)۔ یعنی وہ ایسی آواز میں پکارے گا، جو مشرق و مغرب کے درمیان سنائی دے گی۔

محدثین کی تقسیم کے مطابق یہ ایک موقوف روایت ہے۔ لیکن تاریخی اعتبار سے دیکھیے تو یہ

ایک ثابت شدہ روایت ہے۔ کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں ایسے ذرائع وجود میں آئے، مثلاً انٹرنیٹ۔ اب ایک انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ ایک جگہ سے بولے، اور اس کی آواز زمین کے کسی بھی حصہ میں سنائی دے۔ اس لحاظ سے اس روایت میں مستقبل کے ایک امکان کا یعنی اس دور کا ذکر ہے جب کہ کسی بھی شخص کے لیے یہ ممکن ہو جائے کہ وہ زمین کے کسی بھی حصہ میں ایک دعوتی سینٹر بنائے، اور اس کے ذریعہ وہ دین حق کی باتوں کو اس طرح نشر کرے، کہ وہ ساری دنیا کے لوگوں کے لیے اس کا دیکھنا اور سنناپوری طرح ممکن ہو جائے۔ اس معاملے کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اکیسویں صدی میں وہ دور پوری طرح آ چکا ہے۔ طور پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ امت محمدی کے لوگ اٹھیں ، اور موجودہ زمانے کے مواقع (opportunities) کو استعمال کرتے ہوئے اس پیشین گوئی کو عالمی سطح پر واقعہ بنا دیں، جو ان الفاظ میں آئی ہے: لیبلغن هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ امر ضرور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں۔

ایک حدیث کے مطابق، دور آخر میں سب سے بڑا دعوتی واقعہ ظہور میں آئے گا۔ واقعہ کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ یعنی اللہ رب العالمین کے نزدیک یہ سب سے بڑی گواہی ہوگی۔ یہاں شہادت سے مراد دعوت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کے آخری زمانے میں ایک ایسا عظیم دعوتی واقعہ پیش آئے گا، جو شہادتِ اعظم (greatest witness) کے ہم معنی ہوگا۔ شہادتِ اعظم کوئی پر اسرار واقعہ یا معجزاتی واقعہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ قوانین فطرت کے مطابق انجام پائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں مسلسل طور پر تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ تبدیلیوں کے اس عمل کے بعد اس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے طور انتہائی عظیم وسائل انسان کی دسترس میں آ جائیں گے۔ اس وقت فطری طور پر یہ ممکن ہو جائے گا کہ دعوت الی اللہ کے کام کو اس کی عظیم ترین صورت میں انجام دیا جا سکے۔

کتابوں کے ذریعے لوگوں میں فکری بیداری کا کام مولانا وحید الدین خاں کی کتابیں اس سلسلے میں معاون ہیں۔ پڑھئے ، دوسروں کو پڑھائیے اور تحریک کی ترویج میں حصہ لیجئے ۔ الرسالہ ماہنامہ سائنسی اور تحقیقی زندگی کی نئی سمتوں (اردو) ارسال - ہے، پہنچانا تک انسان تک دعوتِ حق اسلام کی مقصد کا (گری اگر) آپ سے پیش آ رہے ہیں، اور اس کو دوسروں تک پہنچائیں۔ زیادہ سے زیادہ۔ بلکہ اس میں خود بھی حصہ بڑھ چڑھ کر آپ Date of Posting 10th and 11th of advance month Postal Regn. No. DL(S)-01/3130/2015-17 Published on the 1st of every month RNI 28822/76 Posted at NDPSO Licenced to Post without Prepayment U (SE) 12/2015-17 عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر مولا نا وحید الدین خاں کے قلم سے اسلام ایک ابدی حقیقت ہے، لیکن ہر دور میں ضرورت ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو جدید اسلوب میں بیان کیا جائے، تاکہ بدلے ہوئے حالات میں لوگ اسلام کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کر سکیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف موضوعات پر تیار کردہ ان کتابوں کا مطالعہ کریں، نیز قرآن کے ترجمے اور دعوتی لٹریچر پر برادران وطن تک پہنچا کر اپنا دعوتی رول ادا کریں۔ Call: 8588822672, 8588822675 info@goodwordbooks.com Buy online at www.goodwordbooks.com

Printed page