Al-Risala · September 2018

سیکولرزم کیا ہے

Al-Risala, September 2018, pp. 43–45

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے آپ کے تعلق سے لکھا ہے کہ مولانا وحید الدین خان اپنی تصنیف ”مسائل اجتہاد میں لکھتے ہیں: ”حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔ سیکولرزم کا مطلب لانڈ ہیبت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانب دارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے ۔ یہ ایک عملی تدبیر ہے۔ کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جائے ۔ “ اسلام، سیرتِ رسولؐ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر درجنوں کتابیں تحریر کرنے اور منفرد انداز میں تفسیر قرآن لکھنے والے جناب مولانا وحید الدین خان صاحب نے سیکولرزم کی جو تعریف (definition) کی ہے، اسے نہ تو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے صرفِ نظر کیا جانا چاہیے۔ گزارش مگر یہ ہے کہ ہمیں شیخی مارنے سے پرہیز کرتے ہوئے تحمل سے دوسرے کا نقطۂ نظر بھی سننے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔ یہاں میرا سوال یہ ہے کہ واقعی کیا سیکولرزم کا مطلب لانڈ ہیبت نہیں، اس معاملے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ (محمد محب اللہ، دہلی)۔

اس کا جواب یہ ہے کہ کچھ مسلم رہنما جو شاید سیکولرزم کے حقیقی معنی سے بے خبر تھے، انھوں نے سیکولرزم کا ترجمہ لانڈ ہیبت یا لا دینیت کے لفظ سے کر دیا۔ یہیں سے یہ غلطی پیدا ہوئی ۔ ہے کہ سیکولرزم کا تعلق صرف پریکٹیکل وزڈم سے ہے۔ سیکولرزم کا صحیح مطلب ہے ۔ مذہبی امور میں نا طرف داری (non-interference) کا کلچر، اور ہر ایک کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا: Secularism seeks to ensure and protect freedom of religious belief and practice for all citizens. It is simply a framework for ensuring equality throughout society - in politics, education, the law and elsewhere - for believers and non-believers alike. جو لوگ خود ساختہ طور پر مذہب میں پالٹکس کو شامل کرتے ہیں، ان کو یہ تعریف موافق نہیں مگر یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے، علمی اعتبار سے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔

اس کا سوال کا جواب ایک حدیث رسول میں ملتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَمَا تَكُونُونَ يُوَلَّى أَوْ يُؤْمَّرُ عَلَيْكُمْ (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 577)۔ یعنی ابو بکرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے کہا: جیسے تم ہو گے، ویسے ہی حا کم تمھارے اوپر ہوں گے۔

اس حدیث رسول پر غور کیجیے۔ اس حدیث رسول سے ایک اہم سیاسی اصول معلوم ہوتا اس حدیث رسول میں کما تکونون کا مطلب یہ ہے کہ جیسا معاشرہ ہوگا، اور یولی او یو مر کا مطلب ہے حکمراں۔ مزید غور کیجیے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جیسا تمھار ا معاشرہ ہوگا، ویسے ہی تمھارے حکمراں ہوں گے۔

اب اس حدیث کا مطالعہ ایک آیت کی روشنی میں کیجیے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَأَمْرُهُمْ شُوْرَى بَيْنَهُمْ (42:38)۔ یعنی وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ آیت اور حدیث میں فطرت کا ایک قانون بیان ہوا ہے۔ وہ یہ کہ حکومت ایک معاشرتی پروڈکٹ ہے۔ یعنی حکومت اصلاً معاشرے سے برآمد ہوتی ہے، نہ کہ بیلٹ باکس سے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ جس قسم کی حکومت چاہتے ہوں، ویسا معاشرہ بنانے کی کوشش کریں۔ یعنی پر امن انداز میں افراد پر عمل

کر کے معاشرے کی تشکیل کرنا۔ اس معاملے میں صحیح ترتیب یہ ہے — پہلے پرامن انداز میں افراد کی تعمیر، پھر معاشرے کی تشکیل، پھر حکومت کا قیام۔

پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ 1947 میں جو پاکستان بنا تو تمام رہنماؤں نے یہ سمجھ لیا کہ ایک اسلام پسند قوم وجود میں آ گئی ہے۔ اب کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ حکومت کی سیاسی زمام کار اس قوم کے حوالے کر دی جائے ۔ یہ مفروضہ سراسر بے بنیاد تھا۔ حقیقت کے اعتبار سے جو چیز وجود میں آئی تھی، وہ جغرافیہ کی زمینی تقسیم تھی، نہ کہ با مقصد قوم کی تشکیل۔ لیکن تمام لیڈروں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ بیلٹ باکس سے مطلوب حکومت نکال سکتے ہیں۔ مگر آدھی صدی سے زیادہ مدت کی سرگرم کوشش کے با وجود نتیجے کے اعتبار سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔

1971 میں میں نے پاکستان کا سفر کیا تھا۔ اس وقت میں نے لاہور میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی قیام گاہ پر دوبار ان سے ملاقات کی تھی۔ دورانِ گفتگو میں نے کہا تھا کہ آپ کی اسٹریٹیجی نتیجہ خیز ہونے والی نہیں۔ میرے الفاظ میں آپ کی اسٹریٹیجی یہ ہے کہ مسلم لیگ نے اسلامی پاکستان کے نام پر مسلم قوم کے اندر جو ٹیمپو (tempo) پیدا کیا ہے، آپ اس کو اپنی تحریک کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ ٹیمپو کوئی پیدا کرے، اور اس کو استعمال کوئی دوسرا کرے ۔ یہ ٹیمپو یا تو مسلم لیگ کے لیے استعمال ہوگا، یا وہ استعمال ہی نہیں ہوگا۔ اس وقت مولانا مودودی نے میری رائے سے اتفاق نہیں کیا، اور پوری طاقت کے ساتھ الیکشن میں کود پڑے ۔ انھوں نے پاکستان میں چار بار با قاعدہ طور پر الیکشن میں حصہ لیا، مگر ہر بار الیکشن میں ان کو مکمل ناکامی ہوئی۔ ان کا مفروضہ ایک بے بنیاد مفروضہ ثابت ہوا۔

اہلِ پاکستان کے لیے اس معاملے میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ وہ اپنی جدوجہد کو الیکشن سے شروع نہیں کرسکتے۔ انھیں ہر حال میں یہ کرنا ہوگا کہ وہ سیاسی ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑیں، اور کامل معنوں میں پرامن انداز میں پاکستانی قوم کی تعمیر کریں، یعنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے ۔ مطلوب حکومت ایک تیار شدہ معاشرے سے برآمد ہوگی، نہ کہ سیاسی ٹکراؤ سے۔

Printed page