Al-Risala · October 2018

معرفت کا کلمہ

Al-Risala, October 2018, pp. 6–8

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ یہاں اس کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے : عبد اللہ بن عمر و ابن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اللہ قیامت کے دن میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق کے سامنے لائے گا، پھر اس کے (اعمال کا) ننانوے رجسٹر (ایک روایت میں ہے: جس میں اس کی خطائیں ہوں گی)، اس کے سامنے کھولا جائے گا، ہر رجسٹر انتہائے نظر کے مثل ہوگا (فَیُنْشَرُ عَلَیْہِ تِسْعَةٌ وَتِسْعِیْنَ سِجِلّاً کُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ)، پھر اللہ پوچھے گا: کیا تم ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا اعمال لکھنے والے محافظ فرشتوں نے کچھ ظلم کیا ہے، وہ کہے گا: نہیں، اے رب۔ پھر اللہ کہے گا: کیا تمھارے پاس اس کا کوئی عذر ہے (ایک روایت میں ہے: یا کوئی نیکی ہے، وہ آدمی متحیر ہو جائے گا، اور) کہے گا: نہیں، اے رب۔ پھر اللہ کہے گا: (ایک روایت میں ہے: ہم اپنے پاس تمھاری نیکیاں نہیں دیکھتے ہیں) لیکن ہمارے پاس تمھاری ایک نیکی ہے اور آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا (وَإِنَّہٗ لَا ظُلْمَ عَلَیْکَ الْیَوْمَ)، پھر ایک بطاقہ (کارڈ) نکالا جائے گا (ایک روایت میں ہے: انگلی کے بقدر)، جس میں ہوگا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ۔ اللہ کہے گا: اس کو وزن کرو۔ بندہ کہے گا: اے رب، اس کارڈ کی کیا حیثیت ہے، ان رجسٹروں کے مقابلے میں (یَا رَبِّ مَا ہٰذِہِ الْبِطَاقَةُ، مَعَ ہٰذِہِ السِّجِلَّاتِ)؟ کہا جائے گا کہ آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، اور پھر تمام رجسٹروں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا، اور اس کارڈ کو دوسرے پلڑے میں، تمام رجسٹر ہلکے ہو جائیں گے، اور کارڈ والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ بیشک اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں (فَلَا یَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللّٰہِ شَیْءٌ)۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2639؛ مسند احمد، حدیث نمبر 6994؛ المجالسة وجواہر العلم، حدیث نمبر 2295؛ الشریعۃ للآجری، حدیث نمبر 902؛ المعجم الکبیر للطبرانی، (13/19/30)

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اس آدمی کے پاس ایک بطاقہ ہوگا، جس میں لکھا ہوگا: أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُہ ۔ یعنی میں شہادت دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اتنا زیادہ بھاری ہوگا کہ اس کی خطاؤں کا ڈھیر اس کے مقابلے میں کم ہو جائے گا، اور یہ کلمہ بھاری ہو جائے گا۔

مذکورہ حدیث کی مزید وضاحت ایک اور روایت پر غور کرنے سے ہوتی ہے۔ روایت کے متعلق جزء کا ترجمہ یہ ہے: ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے کہا کہ میرا جوتا لے کر یہاں سے باہر جاؤ، اور جو شخص تمھیں دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہتا ہوا ملے، اس کو جنت کی بشارت دے دو ( فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبَهُ، فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ )۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں جوتا لے کر باہر نکلا تو میری ملاقات سب سے پہلے عمر ( ابن الخطاب ) ہوئی ۔ عمر نے کہا: اے ابو ہریرہ ! ہاتھ میں یہ جوتے کیسے ہیں؟ میں نے کہا یہ اللہ کے رسول کے جوتے ہیں۔ آپ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ جو مجھے دل کے یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کو جنت کی بشارت دے دوں۔ عمر نے یہ سن کر ہاتھ سے میرے سینے پر زور سے مارا، جس سے میں زمین پر گر پڑا۔ عمر نے کہا: اے ابو ہریرہ ! میں لوٹ کر رسول اللہ کے پاس پہنچا اور میں رو پڑنے کے قریب تھا۔ میرے پیچھے عمر بھی آپہنچے ۔ رسول اللہ نے کہا: اے ابو ہریرہ ! میں نے کہا: میری ملاقات عمر سے ہوئی، اور جو پیغام آپ نے مجھے دے کر بھیجا تھا میں نے ان کو بتایا۔ انہوں نے میرے سینے پر زور سے مارا، جس سے میں زمین پر گر پڑا۔ اور اس نے کہا: واپس جاؤ۔ رسول اللہ نے کہا: اے عمر، تم نے ایسا کیوں کیا؟ عمر نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! کیا آپ نے ابو ہریرہ کو اپنے دونوں جوتے دے کر حکم دیا تھا کہ جو شخص دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہے اس کو جنت کی بشارت دے دو۔ آپ نے کہا: ہاں !

نے کہا: آپ ایسا نہ کریں، میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اسی پر بھروسہ نہ کرلیں۔ اُن کو چھوڑ دیجیے، عمل کرنے کے لیے (فَلَا تَفْعَلُ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا، فَخَلَّهُمْ يَعْمَلُونَ)۔ نے کہا: لوگوں کو چھوڑ دو (فَخَلَّهُمْ) ۔ صحیح مسلم ، حدیث نمبر 31۔

دونوں روایتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ بطاقہ میں جس کلمۂ شہادت کا ذکر ہے، وہ باعتبار الفاظ نہیں ہے، بلکہ وہ باعتبار معنی ہے۔ شہادت کا کلمہ باعتبار حقیقت بلا شبہ اتنا زیادہ بھاری ہے کہ اس کی وجہ سے پہاڑ پھٹ پڑا، اور پیغمبر موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے (الاعراف، 7:143)۔ مذکورہ روایت میں کسی انسان کا جو بطاقہ نکلا تھا، وہ غالباً معرفت کا بطاقہ تھا۔ سے اگر چہ بڑی تعداد میں خطائیں سرزد ہوئی تھیں، لیکن اس پر کوئی وقت ایسا گزرا، جب کہ اس کے اوپر نہایت شدت کے ساتھ خطا کا احساس طاری ہوا۔ اس وقت شہادت حق کا اعتراف اس کی زبان سے اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ نکلا، جو اس کی تمام خطاؤں پر بھاری ہو گیا۔ خطاؤں کے شدید احساس سے اس کا سینہ پھٹ پڑا۔ شہادت کا اعتراف اس کی زبان سے سیلاب بن کر نکل پڑا، جس سے زمین و آسمان دہل اٹھیں۔ غالباً اس کی وہ کیفیت ہوئی ہوگی، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھادیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہی وہ بطاقہ ہے، جس کا ذکر اوپر کی روایت میں آیا ہے۔ بطاقہ (کارڈ) کا واقعہ غالباً اسی حقیقت کا ایک ڈیمانسٹریشن (demonstration) ہوگا۔

جنت کی دنیا میں انسان کامل آزادی کے ساتھ رہے گا، لیکن وہ اتنا زیادہ پختہ اور اتنا زیادہ باشعور ہوگا کہ وہ کسی بھی حال میں اپنی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ وہ پوری طرح آزاد ہوتے ہوئے بھی پوری طرح ڈسپلن میں رہے گا۔ یہی وہ انسان ہے جس کے سلیکشن کے لیے موجودہ زمینی سیارہ بنایا گیا۔

Printed page