حکم صرف اللہ کا
Al-Risala, October 2018, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ یعنی اقتدار صرف اللہ کے لیے ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت قرآن کی اس آیت میں جس حکم کا ذکر ہے، وہ ایک عبادتی حکم ہے، وہ کوئی سیاسی حکم نہیں یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کی حکومت بزور ساری دنیا میں قائم کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو کامل معنوں میں اللہ کا عبادت گزار بناؤ۔
قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک فرد دنیا میں کس طرح رہے۔ اللہ کی عبادت گزاری کا عمل اللہ کی معرفت سے شروع ہوتا ہے۔ انسان پہلے غور وفکر کے ذریعے اللہ رب العالمين کو معرفت کے درجے میں دریافت (discover) کرتا ہے۔ وہ مخلوقات کی دنیا میں خالق کی کارفرمائی کا شعوری علم حاصل کرتا ہے۔ وہ اپنے وجود سے لے کر خارجی دنیا تک ہر جگہ خالق کی کارفرمائی کو وہ دریافت کرتا ہے کہ اس دنیا میں وہ محکوم ہے، وہ حاکم نہیں ہے۔ اس کے لیے حقیقت پسند رویہ صرف سمیشن (submission) ہے، یعنی وہ اپنے آپ کو اللہ رب العالمين کے سامنے سرینڈر (surrender) کرے۔ وہ بظاہر با اختیار ہونے کے باوجود اللہ کے سامنے بے اختیار ہو کر
اسی کا نام معرفت ہے۔ دین خداوندی کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے۔ انسان پہلے اپنی عقل کو استعمال کر کے اللہ رب العالمين کو دریافت کرتا ہے، اور اس کے بعد اس کے تقاضے کے طور پر وہ اللہ رب العالمين کا تابعدار بنتا ہے۔ اس کی سوچ ، اس کا شعور ، اس کے جذبات ، سب اللہ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والا بن جاتا ہے۔ اس کا سول کنسرن (sole concern) صرف اللہ رب العالمين بن جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اس طرح عبادت کلچر میں ڈھل جائے، تو وہی وہ انسان ہے، جس کو قرآن میں ربانی انسان کہا گیا ہے (آل عمران،3:79)۔