تقویٰ بقدراستطاعت
Al-Risala, October 2018, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت کا ایک جز یہ ہے: فَا تَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ یعنی پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، جہاں تک ہو سکے۔ اتقواللہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بطور حکم اللہ سے ڈرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے بنو۔ تفکر وتدبر کے ذریعے اپنے ذہن کو اس طرح تیار کرو کہ وہ بطور مزاج اللہ سے اندیشہ رکھنے والا بن جائے۔ تقویٰ کسی آدمی کے اندر تربیت کے ذریعے آتا ہے، تقویٰ کوئی ایسی چیز نہیں، جو خود بخود آدمی کے اندر بطور عطیہ موجود ہو۔ اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے غور کیجیے تو آیت کا مطلب یہ سمجھ میں آئے گا کہ اپنے آپ کو تقویٰ کے لیے تیار کرو۔ سوچ کو متقیانہ سوچ بناؤ۔ اپنے مزاج کو متقیانہ مزاج بناؤ۔ اپنے آپ کو تربیت دے کر ایسا بناؤ کہ تم ہر صورت حال میں مثبت رسپانس (positive response) دینے والے بن سکو۔ تقویٰ ایک حاصل کردہ صفت ہے، تقویٰ کوئی ایسی صفت نہیں، جو انسان کو اپنے آپ مل جائے۔
مثال کے طور پر قرآن کی ایک آیت یہ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (5:8)۔ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی قوم آپ کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کرے تو ایسے موقعے پر عدل کی روش پر قائم رہنا، یہ تقویٰ ہے۔ اس قسم کا تقویٰ کب پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ آدمی کا ذہن اتنا زیادہ تربیت یافتہ ہو کہ وہ ایسا نہ کرے کہ پیش آنے والے واقعے پر بھڑک اٹھے، بلکہ وہ اپنے آپ کو رد عمل سے بچائے، وہ بے لاگ (objective) انداز میں سوچے کہ میرے ساتھ جو کیا گیا ہے، وہ جوابی کارروائی (retaliation) کی بنا پر تو نہیں۔ اگر ایسا ہے تو ایک متقی انسان خود اپنے آپ کو ذمے دار ٹھہرائے گا۔ وہ سوچے گا کہ آئندہ مجھے ایسی روش سے اپنے آپ کو بچانا ہے، جو فریق مخالف کے اندر جوابی ذہن پیدا کرے کہ وہ انتقامی ذہن کے ساتھ میرے خلاف کارروائی اس لیے مجھے ایسا نہیں کرنا ہے کہ میں جوابی ذہن کے تحت بھڑک اٹھوں، اور جو غلطی
میری ہے، اس کا الزام دوسرے کو دینا شروع کر دوں۔
یہ تقویٰ یا متقیانہ روش ہے۔ اس قسم کا تقویٰ کسی آدمی کے اندر فوری طور پر یک بٹن دبا کر پیدا نہیں ہوتا۔ انسان کو اپنے آپ کو تربیت دے کر اس قسم کی متقیانہ روش کے لیے تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے آیت کا یہ لفظ کہ متقیانہ روش پر قائم رہو، کا مطلب یہ ہے کہ متقیانہ روش کے لیے اپنے آپ کو اپنے ذہن کو منفی ذہن بننے سے بچاؤ، اپنے ذہن میں شکایتی نفسیات پیدا نہ ہونے دو۔ وفکر کے ذریعے اس حقیقت کو دریافت کرو کہ جو معاملہ پیش آتا ہے، وہ ایک طرفہ سبب سے نہیں پیش اس کا سبب ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے۔ اس لیے تقویٰ یہ ہے کہ آدمی اپنی جانب کی غلطی سے خود کو گویا تقویٰ محاسبۂ خویش کا ایک مثبت نتیجہ ہے۔
تقویٰ اس طرح اچانک نہیں پیدا ہوتا کہ اب تک آپ کا ذہن ایک سوچ (switch) کے تحت کام کر رہا تھا، اب آپ اپنی انگلی کے ذریعے دوسرے سوچ کو دبادیں، اور آپ کے اندر متقیانہ روش پیدا ہوجائے۔ تقویٰ ایک تھنکنگ پراسس (thinking process) کا نتیجہ ہے۔ آدمی نے اپنے اندر یہ پر اسس جاری نہ کیا ہو، اس کے اندر تقویٰ بھی پیدا نہیں ہوگا۔ فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ کا مطلب یہ ہے ۔ اخلاص کے ساتھ تم جتنا زیادہ اپنے آپ کو تقویٰ کے لیے تیار کروگے، اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے گا، اور مزید کی توفیق دے گا۔ تقویٰ کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ تقویٰ ایک ارتقا پذیر صفت ہے۔ تقویٰ ایک درخت کی مانند ہے۔ تقویٰ کا درخت آدمی خود اپنے اندر لگاتا ہے۔ اس کے بعد اخلاص کے بقدر مزید اس کو توفیق حاصل ہوتی ہے، اور پھر اللہ کی توفیق سے یہ درخت بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کا معاملہ وہ ہوجاتا ہے، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ - تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (25-14:24) ۔ وہ ہر وقت پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے۔ مطلب یہ ہے کہ جس درجے کی متقیانہ شخصیت، اسی درجے کا متقیانہ کردار۔