Al-Risala · October 2018

داعی کی اسپرٹ

Al-Risala, October 2018, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

سورہ الانعام ایک مکی سورہ ہے۔ مکی دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت مکہ کے لوگ مشرکانہ مذہب پر تھے، اور پیغمبر اسلام کا مذہب توحید پر مبنی اس بنا پر وہ لوگ ابتدا میں آپ کے مخالف بن گئے۔ ان حالات میں قرآن کی یہ آیت اتری: قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ (6:14)۔ یعنی کہو، کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو مددگار بناؤں جو کہ وجود میں لانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا۔ کہو مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں۔

پیغمبر اسلام کا یہ کلمہ شک کا کلمہ نہیں تھا، بلکہ عزم کا کلمہ تھا۔ یہ اپنی دعوت میں یقین کا اضافہ قرآن کی یہ آیت مین آف مشن (man of mission) کی اسپرٹ کو بتا رہی ہے۔ مشن کی اسپرٹ ہوتی ہے، آئی ول ڈواٹ (I will do)۔ دوسرے لفظوں میں اس آیت کا مطلب یہ تھا کہ کوئی توحید پر نہ چلے تب بھی میں اس پر چلوں گا، کوئی توحید کو اپنائے تب بھی میں اس کو اپناؤں گا، کوئی توحید پرست نہ بنے تب بھی میں اکیلا توحید پرست بنوں گا، کوئی اس مشن کے لیے نہ اٹھے تب بھی میں اس کے لیے اٹھوں گا۔

دعوت کا کام ہمیشہ داعی کے یقین پر مبنی ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں جو کام بھی کیا جائے، اس کے لیے ناقابل شکست یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ناقابل شکست یقین کے بغیر کوئی کام کامیابی کے درجے تک نہیں پہنچتا۔ اس قسم کا جملہ ناقابل شکست یقین کا اظہار ہوتا ہے، اور داعی کے اندر ناقابل شکست یقین کا پایا جانا، دعوت کی کامیابی کا یقینی ذریعہ ہے۔ داعی وقت کی زبان سے اس قسم کا جملہ دوسرے الفاظ میں اسی عزم کا اظہار ہوتا ہے، جس کو آئی ول ڈوا اسپرٹ (I will do spirit) کہا

Printed page