موت کی یاد
Al-Risala, October 2018, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں انسان کے بارے میں ایک سنگین حقیقت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ اس حقیقت کے بارے میں حدیثِ رسول میں یہ الفاظ آئے ہیں: أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ، الْمَوْتِ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4258) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔
ھادم اللذات کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ موت کی یاد سوپر ڈی کنڈیشننگ (super deconditioning) کا ذریعہ ہے۔ ہر آدمی ضرور اپنے ماحول کی کنڈیشننگ کا شکار چنانچہ ہر عورت اور مرد لازمی طور پر مسٹر کنڈیشنڈ یا مس کنڈیشنڈ بن جاتے ہیں۔ حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ اس عمومی کنڈیشننگ کی بنا پر ہر آدمی کی یہ ضرورت ہے کہ وہ شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہ عمل (process) عام حالت میں بہت سست ہوتا لیکن موت کا واقعہ ایک دھماکہ خیز واقعہ ہے۔ آدمی کے اندر اگر موت کی سچی یاد پیدا ہو جائے تو ایک لمحے کے اندر اس کی کنڈیشننگ ٹوٹ جائے گی۔ موت کی یاد آدمی کو ایک لمحے میں دوبارہ اس کی فطری حالت پر قائم کر دیتی ہے۔ ایک لمحے میں آدمی پورے معنوں میں حقیقت پسند (realist) بن جاتا ہے۔ ایک لمحے میں آدمی ایسا ہو جاتا ہے کہ موت کا مسئلہ اس کا واحد کنسَرن (sole concern) بن جائے۔
موت کی یاد ہر آدمی کے لیے ایک جبری مصلح کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنا مصلح آپ بن جائے۔ وہ انتہائی حد تک بے لاگ انداز میں اپنا محاسبہ کرنے لگے۔ سب سے زیادہ اپنے آپ کو آخرت رخی شخصیت بنا لے ۔