زندگی کے قیمتی سال
Al-Risala, October 2018, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کی اوسط عمر اس دنیا میں تقریبا ستر سال ہے۔ بڑھاپے کی عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اولڈ از گولڈ (old is gold)۔ یہ قول لفظ بلفظ صحیح ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں آدمی سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے بعد والوں کے لیے اپنا بہترین (best) دوسروں کو دے سکے— زیادہ معلومات، زیادہ تجربہ، زیادہ دانش مندی، زندگی کی زیادہ بہتر پلاننگ۔ یہ سنہری موقع ہر اس انسان کے لیے ہے، جس کی عمر زیادہ ہو جائے، بشرطیکہ وہ اس دنیا میں با اصول انسان (man of principle) بن کر زندگی گزارے :
(1) وہ صحت کے فطری اصول کا پابند ہو، تا کہ وہ اپنی عمر کے آخر دور تک دنیا میں قابل کار بنا رہے۔
(2) وہ سادہ زندگی گزارے، اور اپنے آپ کو اسراف سے بچائے۔
(3) وہ کسی حال میں اپنے آپ کو کسی غلط عادت میں مبتلا نہ ہونے دے۔ (4) وہ ہر حال میں مثبت سوچ (positive thinking) کا طریقہ اختیار کرے، حتی کہ وہ منفی تجربہ کو مثبت سبق میں تبدیل کر سکے۔
(5) وہ کسی سے امید نہ رکھے۔
(6) وہ اس دنیا میں دینے والا بن کر رہے، نہ کہ لینے والا۔ (7) وہ غصہ سے اس طرح بچے، جس طرح کوئی شخص اپنے آپ کو سانپ بچھو سے بچاتا ہے۔ (8) وہ سچے دل سے لوگوں کا خیر خواہ بنے۔
(9) اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے، تو وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرلے، ایسا ہر گز نہ کرے کہ اپنی غلطی کے لیے عذر (excuse) پیش کرنا شروع کر دے۔
(10) وہ لوگوں کے درمیان ہمیشہ متواضع (modest) بن کر رہے۔