توحید کا مشن، بتوں سے اعراض
Al-Risala, January 2018, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کا مشن توحید کا مشن تھا۔ اس معاملے میں مقدس کعبہ کی تطہیر اپنے آپ شامل تھی، جس کی عمارت میں اس زمانہ کے مشرک لوگوں نے تقریباً 360 بت رکھ دیے تھے۔ مگر یہ بے حد اہم بات ہے کہ پیغمبر اسلام نے جب قدیم مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا تو آپ نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنا مشن چلایا۔
آپ نے یہ پالیسی اختیار کی کہ بتوں کی وجہ سے کعبہ کے پاس جو زائرین (visitors) جمع
ہوتے تھے، ان کو بطور آڈینس (audience) استعمال کریں۔ چناں چہ آپ نے یہی کیا کہ روزانہ آپ کعبہ کے مقام کو جاتے، اور وہاں بتوں کے مسئلے سے اعراض کرتے ہوئے موجود حاضرین کو پرامن طور پر توحید کا پیغام سناتے، جو کہ روزانہ سارے عرب سے وہاں اپنے بتوں کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے۔ یہی طریقہ آپ کا مکہ کے قیام کے آخر زمانے تک جاری رہا۔ پیغمبر اسلام کا یہ عمل اس بات کا ایک نمونہ ہے کہ آپ نے اس معاملے میں وزڈم کے مذکورہ اصول کو استعمال کیا۔ آپ کا مشن دعوت کا مشن تھا۔ اس لحاظ سے کعبہ میں بتوں کی موجودگی عملی اعتبار سے ایک غیر متعلق ایشوتھا، اس کے مقابلے میں قبائل کے زائرین کا اجتماع ایک متعلق پہلو کی حیثیت چناں چہ آپ نے غیر متعلق پہلو کو وقتی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اس کے متعلق پہلو کو پرامن طور پر استعمال کیا۔