دور امن کی طرف
Al-Risala, November 2018, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اصحاب رسول کو ایک حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39)۔ یعنی ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب اللہ کا ہو جائے۔ قرآن کی اس آیت کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کرو تا کہ فتنہ نہ رہے، اور دوسرے حصہ کے الفاظ یہ ہیں کہ دین سب اللہ کا ہو جائے‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے مطلوب کے لیے لڑنا ہوگا اور اس کے بعد دوسرا مطلوب اپنے آپ حاصل ہو جائے گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی تخلیق کے مطابق انسانی دنیا میں حالت فطری قائم تھی، اور حالت فطری امن کی حالت ہے۔ بعد کو دنیا میں مطلق العنان بادشاہوں (despotic kings) کا زمانہ آیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ حالت فطری کو ختم کر کے اس کی جگہ غیر فطری حالت قائم کر دی، یعنی مذہبی جبر و تشدد کی حالت۔ یہ حالت اللہ کو منظور نہ تھی۔ اللہ نے اصحاب رسول کو حکم دیا کہ جن لوگوں نے انسانی دنیا میں خود ساختہ طور پر جبر و تشدد کی حالت قائم کر رکھی ہے، اس کو بزور ختم کر دو تا کہ دوبارہ انسانی دنیا میں حالت فطری قائم ہو جائے۔
قدیم زمانے میں مذہبی تشدد (religious persecution) اس بنا پر قائم تھا۔ رسول نے اپنے زمانے کے ارباب اقتدار سے جنگ کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا میں ایک نیا دور یعنی جنگ کے دور کے بجائے امن کا دور۔ تاریخ میں کوئی بڑا واقعہ اچانک نہیں ہوتا بلکہ وہ تاریخی عمل (historical process) کی صورت میں ابتدائی حالت سے شروع ہو کر تکمیل کی حالت تک پہنچتا ہے۔ تاریخ میں اس دور امن کا آغاز اہل اسلام نے کیا تھا۔ بعد کے زمانہ میں آزادی اور جمہوریت (freedom and democracy) کا جو دور آیا وہ اسی آغاز کا منتہا
اکیسویں صدی میں اب ہم اسی دور امن میں جی رہے ہیں۔ اب قرآن کے الفاظ میں دُین
سب کا سب اللہ کے لیے“ ہو چکا ہے۔ یعنی یہ ممکن ہو گیا ہے کہ یہ امن کے طریق کار (peaceful method) کو استعمال کرتے ہوئے ہر مقصد کو نارمل کورس (normal course) میں حاصل کر لیا اسلام ایک مشن ہے، توحید کا مشن۔ قدیم زمانہ میں اس مشن کو جاری کرنے کے لیے سخت رکاوٹیں پیش آتی تھیں۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ رکاوٹوں کے بغیر اسلام کے مشن کو جاری کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اسلام کا نام لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ جنگ اور تشدد کا طریقہ اختیار کرتے ہیں وہ اپنے اس عمل سے یہ ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ دورِ جدید سے پوری طرح بے خبر (unaware) ان کا کیس جہاد کا کیس نہیں ہے، بلکہ بے خبری (unawareness) کا کیس ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں قتال کا لفظ مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنے گھر سے تلوار لے کر نکلو اور سب کو مارنا شروع کر دو۔ جنگ دراصل آخری چارہ کار کا نام چنانچہ عرب میں ایسا نہیں ہوا کہ قرآن اترتے ہی رسول اللہ نے فوراً تلوار سنبھالی اور جنگ شروع کر دی ۔ بلکہ جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ ہے کہ نبوت ملنے کے بعد آپ نے اس مشن کو ممکن دائرے میں شروع کیا، مثلاً پہلے خاموشی کے ساتھ ممکن دائرے میں لوگوں کو سمجھانا بجھانا۔ اس کے بعد ٹکراؤ سے اعراض (avoid) کرتے ہوئے لمبی مدت تک پرامن انداز میں تبلیغ و دعوت کا کام کرنا۔ فریق ثانی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے تو خاموش منصوبہ بندی کے ذریعے ایسا طریقہ اختیار کرنا کہ جھڑپ (skirmishes) پر معاملہ ختم ہوجائے۔ خون بہانا، اور متشددانہ کارروائی کرنے سے آپ نے آخری حد تک پرہیز کیا۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو آپ کی قربانی سب سے زیادہ صبر کرنے کی قربانی تھی، نہ کہ جنگ و قتال کرنا۔ آپ کے مشن میں قتال بطور اقدام نہیں تھا، بلکہ بطور دفاع تھا۔ ایک مستشرق نے پیغمبر اسلام کے بارے میں کہا ہے کہ پیغمبر اسلام نے دشواریوں کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ آپ نے ناکامی سے کامیابی کو نچوڑ لیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے پرابلم کے درمیان موجود مواقع کو تلاش کیا، پھر مواقع کو استعمال کر کے پرابلم کو اپنے ترقیاتی سفر کا زینہ بنا لیا۔