دورِ زوال کی ایک علامت
Al-Risala, November 2018, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے : يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر یعنی ابوسعید الخدری سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے کہا تمھارے درمیان ایسے لوگ ظاہر ہوں گے، جن کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو، اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے آگے، اور اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے آگے کم تر سمجھو گے۔ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نہیں اترے گا، وہ لوگ دین سے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔
یہ حدیث رسول ایک قسم کی پیشین گوئی ہے۔ یہ ظاہر ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ امت کے افراد میں اسپرٹ کا خاتمہ ہوجائے، اور فارم کی دھوم دھام اپنی آخری حد تک بڑھ جائے۔ اس وقت ہوتا ہے، جب کہ امت کے افراد داخلی اسپرٹ کی کمی کی تلافی خارجی ظواہر کے اضافے سے کرنے لگیں ۔ جب معانی کی کمی الفاظ میں اضافہ کی صورت اختیار کرلے، جب لوگ خاموشی کی اہمیت سے بے خبر ہو جائیں ، اور کلام کی اہمیت کثرت کو اس کا بدل سمجھ لیں ۔ جب لوگوں کے اندر داخلی محاسبہ (internal introspection) کا شعور باقی نہ رہے، البتہ خارجی اظہار کی نمائش میں خوب اضافہ ہو جائے، جب انسان چپ رہنے کو کم سمجھے، اور بولنے کو بڑی چیز سمجھنے لگے۔ حدیث میں آیا ہے کہ تم (اصحاب رسول) اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے سامنے کمتر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صاحب معرفت ایسا سمجھنے لگیں گے ۔ بلکہ یہ بات دراصل ان لوگوں کی نسبت سے کہی گئی ہے، جو اپنے شعور کی کمی کی بنا پر ظاہر اور باطن میں فرق نہ کرسکیں گے ۔ ظواہر کی کثرت کو دیکھ کر یہ گمان کرلیں گے کہ ان کے اندر داخلی حقیقت بھی موجود ہے۔