Al-Risala · November 2018

تزکیہ اور دعوت

Al-Risala, November 2018, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا محمود حسن دیوبندی کا واقعہ ہے ۔ وہ 1920ء میں مالٹا کی جلاوطنی سے واپس آئے۔ اس کے بعد دیوبند میں ان کی ایک مجلس ہوئی۔ اس مجلس میں انھوں نے درسِ قرآن کی بات کہی۔ کے شاگرد رشید مفتی محمد شفیع صاحب اُس مجلس کی روداد ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعد ایک رات بعد عشاء (حضرت) دارالعلوم (دیوبند) میں تشریف فرما تھے۔ علما کا بڑا مجمع سامنے تھا، اس وقت فرمایا کہ ”ہم نے مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں... میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ ایک، ان کا قرآن کو چھوڑ دینا، اور دوسرا، آپس کے اختلاف اور خانہ جنگی ۔ اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے، بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کیے جائیں، بڑوں کو عوامی درسِ قرآن کی صورت میں اس کے معنی سے روشناس کرایا جائے ، اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے ۔ “ (جماعت شیخ الہند اور تنظیم اسلامی، ڈاکٹر اسرار احمد، صفحہ 346)۔

شیخ الہند کے ان الفاظ پر اب تقریباً سو سال گزر چکے ہیں۔ اس مدت میں شیخ الہند کی مذکورہ رہنمائی کو بے شمار لوگوں نے اختیار کیا، اور سارے ملک میں قرآن پر مبنی تحریکیں چلائی گئیں۔ اگر بے لاگ انداز میں نتیجے کا جائزہ لیا جائے تو نتیجے کے اعتبار سے یہ تحریکیں صفر (zero) ثابت حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ نظریے کے اعتبار سے غالباً کسی بھی قابل ذکر واقعے کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔

اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب خود تشخیص کی غلطی ہے۔ یعنی قرآن کی اشاعت کے جس پیٹرن کو اختیار کیا گیا، وہ یہ تھا کہ قدیم کتب میں تفسیر قرآن کے لیے جو انداز اختیار کیا گیا ہے، اس

کوایزٹ از (as it is) عوام میں پھیلانا۔ قدیم کتابوں میں تفسیر قرآن کا جو پیٹرن پایا جاتا ہے، وہ درس و تدریس کے لیے موزوں ہے، لیکن اصلاح و تربیت کے لیے یہ پیٹرن موزوں نہیں۔ اصلاح و تربیت کے لیے جو پیٹرن مفید ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے تطبیقی انداز اب ہم ایک نئے زمانے میں جی رہے ہیں، نئے زمانے کے لحاظ سے مفید پیٹرن صرف وہ ہے، جو نئے حالات میں پیدا ہونے والے اذہان کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ بعض حضرات، جنہوں نے قدیم پیٹرن کو بدلا، وہ صرف یہ تھا کہ انھوں نے فنی انداز کے بجائے سیاسی انداز (political pattern) اختیار کر لیا۔ اس قسم کی تبدیلی منفی نتائج تو پیدا کر سکتی تھی، لیکن مثبت نتائج کبھی بھی سیاسی پیٹرن سے حاصل نہیں کئے جاسکتے۔

مثلاً جن لوگوں نے تفسیر قرآن کا سیاسی پیٹرن اختیار کیا، انھوں نے یہ کیا کہ جہاد وقتال سے متعلق قرآن کی آیتوں کو برٹش ایمپائراور مغربی تہذیب پر منطبق کر کے پر زور تحریکیں چلائیں، اور سیاسی جدو جہد کو قرآن کا مطلوب کام قرار دیا۔ یہ اسلوب بلاشبہ آخری حد تک غیر متعلق اس لیے اس کا مثبت نتیجہ نہ نکلنے والا تھا، اور نہ نکلا۔ اس کے برعکس، اگر یہ حضرات دعوت کا اسلوب اختیار کرتے تو یقیناً ان کی کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہوتے۔ مسلم رہنماؤں نے قرآن کے درس کا دعوتی انداز اختیار نہیں کیا۔ البتہ میرے علم کے مطابق ایک برطانوی مستشرق پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے 388 صفحات پر مشتمل ایک جامع کتاب تیار کی، جو دی پریچنگ آف اسلام (The Preaching of Islam) کے نام سے 1896 میں شائع اس کتاب کا مقصد یہ تھا کہ اس زمانے کے مسلمانوں کو راغب کیا جائے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پر امن دعوتی اسلوب کو اختیار کریں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس درست مشورے کو کسی قابل ذکر آدمی نے اختیار نہیں کیا، بلکہ اس کو برطانی سازش کا حصہ سمجھ کر رد کر دیا۔ قرآن کی روشنی میں اسلام کا مقصد اصلاً صرف یہ ہے اپنے لیے تزکیہ اور دوسروں کے لیے دعوت الی اللہ۔

Printed page