کفالت کا انتظام
Al-Risala, November 2018, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت مریم بنت عمران کا ذکر قرآن میں تفصیل سے آیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے ساتھ خصوصی نصرت کا معاملہ کیا۔ اسی میں سے ایک نصرت وہ ہے جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا (3:37)۔ یعنی زکریا پیغمبر نے حضرت مریم کی کفالت (معاشی ضروریات کا انتظام) کیا۔ قدیم زمانہ زراعت کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں وسائل اس کے پاس ہوتے تھے، جس کے پاس زراعت ہو۔ جو شخص اپنی کفالت آپ کرنا چاہتا تھا، وہ بھیڑ بکری پالنے جیسا کام کرتا تھا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے قصے میں مدین کے شیخ کبیر (القصص،28:23)کا 28:23) کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
موجودہ زمانہ اس اعتبار سے ایک نیا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں صنعتی انفجار (industrial explosion) کی وجہ سے ایک نیا وسیع تر معاشی نظام وجود میں آیا ہے۔ نظام کے تحت ہر شخص کے لیے یہ موقع پیدا ہو گیا ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ کام کر کے اپنے لیے معاشیات کا مثلاً بزنس ، کمپنی کی ملازمت ، آفس کی ملازمت ، مختلف قسم کے اداروں کی ملازمت ، اسی طرح فری لانسنگ کے ذریعے کمانے کے بہت سے طریقے وجود میں آئے ہیں۔ تقریباً ہر شخص اپنے لیے کوئی نہ کوئی روزگار پا رہا ہے، جس میں کام کر کے وہ اپنی ضروریات فراہم کرتا ہے، بشرطیکہ اس کے اندر کسی نوعیت کی پروفیشنل صلاحیت موجود ہو۔
یہ آج کے انسان کے لیے شکر کا ایک آئٹم ہے۔ قدیم زمانے میں یہ آئٹم موجود نہ تھا، یا اگر موجود تھا تو بہت زیادہ محدود اعتبار سے۔ موجودہ زمانے میں کامل وسعت کے ساتھ یہ مواقع کھل گئے اس طرح انسان کی کوششوں کے ذریعہ آج کی دنیا میں شکرِ خداوندی کا ایک نیا آئٹم پیدا ہوا یہ مختلف قسم کے تاریخی انقلابات کا نتیجہ ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس اعتبار سے اللہ رب العالمین کا شکر کرنا سیکھیں ، اور اس طرح اپنے آپ کو مثبت سوچ والا انسان بنائیں۔