Al-Risala · November 2018

خدا کی پہچان

Al-Risala, November 2018, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر تھے۔ ان کو طور پہاڑ پر خدا سے کلام کا تجربہ ہوا۔ قرآن کے مطابق، اس وقت انھوں نے کہا: رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ (7:143)۔ یعنی اے میرے رب مجھے اپنے آپ کو دکھا کہ میں تجھ کو دیکھوں:

My Lord, show Yourself to me so that I may look at You. تاریخ کا تجربہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک طلب لے کر پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ انسان اپنے خالق (creator) کو دیکھے۔ حتی کہ پیغمبر بھی اس معاملے میں مستثنیٰ مگر انسان کی آنکھ اپنے جیسی مخلوق کو دیکھ سکتی ہے، لیکن خالق کو براہ راست دیکھنا، اس کے لیے ممکن نہیں۔ خالق کو موجودہ دنیا میں براہ راست دیکھنے کے لیے انسان کو دوسرا خدا بننا پڑے گا، اور دوسرا خدا بننا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ حتیٰ کہ پیغمبر کے لیے بھی نہیں۔ اس سلسلے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : يَا أُمَّتَاهْ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَفَّ شَعْرِي مِمَّا قُلْتُ، أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ، مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ، مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأْتُ : لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ [6:103] ، وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ [42:51] (صحیح البخاری، حدیث نمبر (4855)۔ یعنی مسروق (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ سے کہا کہ اے ماں، کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔ عائشہ نے کہا: تم نے جو کہا اس سے میرے بال کھڑے ہو گئے۔ تین باتوں کے بارے میں تم کہاں ہو، جس نے تم سے یہ تین باتیں کہیں، اس نے جھوٹ کہا۔ (ان میں سے ایک یہ کہ) جو تم سے یہ کہے کہ رسول اللہ نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اس نے جھوٹ کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی: نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرتیں، مگر وہ

نگاہوں کا ادراک کرتا ہے۔ وہ بڑا باریک بیں اور بڑا با خبر ہے۔ اس کے بعد یہ آیت پڑھی: اور کسی آدمی کی یہ طاقت نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے، مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنے خالق کو براہ راست طور پر دیکھ نہیں سکتا۔ مگر انسان یقینی طور پر دیکھنے جیسے تجربہ کے ذریعہ خالق کے وجود پر یقین حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے خالق نے ایک ماڈل پیدا کیا ہے۔ یہ ماڈل یقین بغیر رویت (conviction without observation) کا یہ ماڈل وہی ہے، جس کو ہم ماں (mother) کہتے ہیں۔ ہر انسان کامل یقین کے ساتھ اپنی ماں کو ماں سمجھتا ہے، حالاں کہ کسی نے بھی یہ نہیں دیکھا کہ وہ اپنے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا حقیقت یہ ہے کہ ہر بچہ پیدا ہونے کے وقت بظاہر آنکھ لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن پیدائش کے وقت وہ اپنی آنکھ سے کسی چیز کو دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا۔

ماں کا تجربہ ہر انسان کے لیے ایک معلوم ماڈل ہے۔ کوئی بھی انسان اس ماڈل سے بے خبر اس ماڈل کی صورت میں ہر پیدا ہونے والا انسان، عورت ہو یا مرد، یہ جانتا ہے کہ فلاں عورت میری ماں ہے۔ یہ یقین ایک ایسے ماڈل کے ذریعہ ہوتا ہے، جو ہر مشاہدے سے بلند ہے۔ ہے یقین بغیر رویت (conviction without observation) کا ماڈل۔ یہ ماڈل اتنا زیادہ یقینی ہے کہ کوئی شخص اپنی فطرت پر قائم رہتے ہوئے، اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ اسی لیے حضرت عائشہ نے وہ بات کہی، جو مذکورہ روایت کی صورت میں حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ماڈل اتنا زیادہ مبنی بر حق ماڈل ہے کہ ایک سچا مومن اس کو سنے تو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اس ماڈل کے باوجود عورت یا مرد یہ مطالبہ کرے کہ خدا اگر ہے تو اس کو مجھے براہ راست دکھاؤ۔ یہ مطالبہ اتنا زیادہ بے بنیاد اور اتنا زیادہ غیر منطقی (illogical) ہے کہ اس کو سن کر ایک سچے انسان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ کے بدن پر لرزہ طاری ہو جائے، وہ کھڑا ہے تو گر پڑے، وہ بول رہا ہے تو خاموش ہو جائے، اس کی زبان بولنے سے عاجز ہو جائے۔

Printed page