Al-Risala · February 2018

قرآن سے رہنمائی

Al-Risala, February 2018, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29) ۔ یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ میں تدبر کا مطلب ہے، قرآن کی آیتوں پر غور کرنا۔ غور کرنے کا مقصد یہ بتایا گیا کہ قرآن کی آیتوں سے نصیحت لینا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی آیتوں کا تطبیقی مفہوم (applied meaning) ایک جنرل حکم کو پرسنلائز کر کے سمجھنا۔ اسی کو انسانی زبان میں نصیحت کہا جاتا ہے۔ گویا کہ تدبر کا مطلب ہے ایک اصولی حکم کو عملی نصیحت کے انداز میں ڈھالنا۔ مثلاً موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ مغربی دنیا ان کی مخالف مخالفت کے اس کلچر کو وہ اسلامو فوبیا کا نام دیتے ہیں۔ اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے جب آپ قرآن پر نظر ڈالیں گے تو آپ کے سامنے یہ آیت آئے گی: وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ (42:30) ۔ یعنی اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے پہنچتی ہے۔

اس آیت پر غور کیا جائے تو اس سے عبارت النص کے درجے میں یہ بات نکلتی ہے کہ ہر مصیبت جس کے لیے تم دوسروں کی شکایت کرو گے، وہ تمھارے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہوگی۔ مصیبت کا سبب اپنے آپ کو سمجھو، نہ کہ دوسروں کو۔ آیت پر مزید غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جس چیز کو مسلمان دوسروں کی طرف منسوب کرکے اسلاموفوبیا کہتے ہیں، وہ خود مسلمانوں کے اپنے عمل کا ردّعمل (reaction) ہوتا ہے۔ گویا کہ اسلامو فوبیا اپنی حقیقت کے اعتبار سے ویسٹوفوبیا یعنی تدبر کا مطلب ہے آیت کا تطبیقی مفہوم دریافت کرنا، اور اس سے عملی نصیحت حاصل کرنا۔

Printed page