ما کان وما یکون
Al-Risala, November 2018, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت الفاظ کے فرق کے ساتھ مختلف کتب حدیث میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ الْفَجْرَ، وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ، فَنَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2892)۔ اللہ نے ہم کو فجر کی نماز پڑھائی، اور منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا۔ یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا۔ نماز پڑھی پھر منبر پر چڑھے، پھر ہم کو خطبہ دیا، یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا۔ اترے، نماز پڑھی، پھر منبر پر چڑھے، اور ہم کو خطبہ دیا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ میں) آپ نے ہمیں ما کان وما یکون (جو ہو چکا ہے، اور جو کچھ ہونے والا ہے) کی خبر دی۔ یہ حدیث رسول پوری انسانی تاریخ یا کائنات کی پوری تاریخ کے بارے میں نہیں ہے۔ دراصل امت مسلمہ کے لیے بطور نصیحت ہے۔ وہ اس لیے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد امت مسلمہ میں جو حالات پیش آئیں گے، اس میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ مزید یہ کہ یہ حالات دوسری روایتوں میں کتب حدیث کے مختلف ابواب میں متفرق طور پر بیان ہو چکے ہیں۔ غالباً اس روایت کے مطابق ایسا ہوا کہ آپ نے ان واقعات کو ایک دن اجمالی طور پر بیان کر دیا۔ پیغمبر اسلام نے امت کے بعد کے حالات کو کیوں اتنا زیادہ بیان کیا۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ آپ کے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہ تھا، جو پیغمبرانہ سطح پر حالات کے بارے میں بروقت رہنمائی اس لیے آپ نے ما کان وما یکون کو اپنے اصحاب کے واسطے سے پوری امت کو پیشگی طور پر بتا دیا تا کہ امت متنبہ ہو جائے، اور ہر صورت حال میں غور وفکر کر کے اپنے لیے رہنمائی دریافت تاہم ان روایتوں میں کچھ باتیں تمثیلی اسلوب میں ہیں، اور کچھ باتیں غیر تمثیلی اسلوب میں۔ ان روایتوں کو سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو جاننا بہت زیادہ ضروری ہے۔