ہر انسان کا معاملہ
Al-Risala, November 2018, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر انسان پر وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ وہ موجودہ دنیا میں نہ رہے۔ ہر آدمی پر وہ وقت آئے گا، جب کہ وہ اپنے آپ کو ایسے حال میں پائے، جہاں ایک طرف اس کی ماضی کی یادیں ہوں، جو اس کا ساتھ چھوڑ کر چلی گئیں، اور دوسری طرف آگے کی وہ دنیا ہو، جو اس کے سامنے انفولڈ (unfold) ہورہی ہو۔ آج انسان ماضی اور حال کے درمیان جی رہا ہے۔ پھر وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ ماضی اور حال دونوں اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ وہ ایک بھولی ہوئی کہانی بن کر رہ اردو کے ایک شاعر تھے میر تقی میر (1810-1723)، انھوں نے ایک شعر کہا تھا: صبح پیری شام ہونے آئی میر تو نہ چیتا یاں بہت دن کم رہا یہ شعر انھوں نے اپنے بارے میں کہا تھا، جب کہ وہ عمر کا بڑا حصہ گزار کر اپنے آخری دور میں پہنچ چکے تھے۔ تمثیل کی زبان میں ہر آدمی کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پیدا ہو کر وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچا، اور پھر اس پر موت کا فیصلہ آیا، اور وہ اپنی زندگی کے دور اول کو چھوڑ کر اپنی زندگی کے دوسرے دور میں پہنچ گیا۔
زندگی کا یہ سفر کیا ہے۔ انسان کہاں سے آتا ہے، اور وہ کہاں چلا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک آغاز اور ایک انجام کے درمیان ہے۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ آغاز کیا ہے، اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ ہر انسان کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ زندگی کے اس سفر کے بارے میں سوچے ۔ زندگی کی کہانی پڑھ کر اس کی حقیقت کو دریافت کرے ۔ وہ جانے کہ زندگی کے سفر میں آج وہ کہاں کھڑا ہوا ہے، اور کل اپنے آپ کو وہ کس مقام پر پائے گا۔
اس دریافت کے بعد ہر آدمی کے لیے دوسرا کام یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کی نتیجہ خیز پلاننگ وہ اپنے آج کو اپنے کل کے لیے استعمال کرے ۔ آدمی اپنی زندگی کا ایسا منصوبہ بنائے کہ اس کا حال اس کے مستقبل کے لیے مفید ثابت ہو۔