Al-Risala · December 2018

آخرت کا معاملہ

Al-Risala, December 2018, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک لمبی روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ایک جزء یہ ہے۔ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ مِنَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي - وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ - مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 7018)۔ یعنی اس کو موت آگئی، اور میں اس کے بارے میں اللہ سے خیر کی امید رکھتا ہوں، خدا کی قسم، میں نہیں جانتا، حالاں کہ میں اللہ کا رسول ہوں، کیا کیا جائے گا میرے ساتھ، اور کیا کیا جائے گا تمھارے ساتھ۔ حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بظاہر اس آیت کے خلاف ہے : لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ (48:2)۔ لیکن یہ کوئی تعارض کی بات نہیں۔ اس آیت میں جو بات بتائی گئی ہے، وہ خدا کی جانب سے ہے۔ اس کے برعکس، ایک انسان کا خدا کی نسبت سے کیا ر سپانس ہونا چاہیے، وہ رسول اللہ نے کہا ہے۔ ایک سچا انسان جب خدا کے عطیے کو پائے، اس کے تواضع میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا، وہ سجدے میں گر جائے گا، وہ یہ کہے گا کہ خدا یا، میں تو اس قابل نہیں تھا، یہ محض تیرا فضل ہے، تیرے ہاتھ میں سب کچھ ہے، اور میں کچھ بھی نہیں۔

مذکورہ روایت میں رسول اللہ نے جو بات کہی، وہ عظمت خداوندی کے پہلو سے ہے، جس کو قرآن میں ایک مقام پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ (82:19)۔ کو رب العالمین کی عظمتوں کی دریافت ہو جائے، وہ ہر کام کو صرف اللہ رب العالمین کی نسبت سے سوچنے والا بن جاتا ہے۔ ہیبت خداوندی کی بنا پر اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو لے کر نہیں سوچتا، بلکہ اللہ رب العالمین کو لے کر سوچنے لگتا ہے۔ سچے انسان کو جب اللہ کی دریافت ہو جائے، تو اس کے اندر کامل معنوں میں خدارخی (God oriented) سوچ بن جاتی ہے۔ اپنے آپ کو بے کچھ‘‘ اور اللہ رب العالمین کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی یہ سوچ اس کے تمام اقوال وافعال میں حاوی ہو جاتی ہے۔

Printed page