اتباع کا مطلب
Al-Risala, December 2018, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
اکثر سلفی حضرات یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ كُلُّ خَيْرٍ فِي اتِّبَاعِ مَنْ سَلَفَ، وَكُلُّ شَرٍّ فِي ابْتِدَاعِ مَنْ خَلَفَ (تمام خیر سلف کی اتباع میں ہے، اور تمام برائی بعد میں آنے والوں کی ایجاد کردہ باتوں میں ہے)۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، چنتی، تامل ناڈو)۔
اس کے جواب میں یہاں ایک حدیثِ رسول، اور خود ائمہ سلف میں سے ایک امام کا قول نقل کیا جاتا ہے۔ حدیثِ رسول یہ ہے: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ (موطا امام مالک، حدیث نمبر 2618)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے جب تک تم اس کو پکڑے رہو، وہ ہے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔
اسی کے مثل امام احمد بن حنبل (وفات: 241ھ) نے مسئلہ خلق قرآن کے تعلق سے خلیفہ معتصم باللہ (وفات: 227ھ) سے کہا تھا: یا امیر المؤمنین، أعطوني شيئاً من كتاب الله أو سنّۃ رسول الله حتى أقول به (تاریخ الاسلام للذهبي، بيروت، 1993، 18/103)۔ امیر المومنین، آپ مجھے کوئی ایسی چیز لا کر دیجیے جو کتاب اللہ یا سنتِ رسول میں ہو، تا کہ میں اس کو
حدیثِ رسول اور امام احمد کے بیان کردہ اصول کی روشنی میں سلفی حضرات کے مذکورہ قول کو دیکھنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قول کو اگر معتدل معنی میں لیا جائے تو وہ صرف یہ ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل یا نظریہ کا انتخاب کرتے ہوئے، دوسرے علما سے استفادہ کرے ۔ اس قول کو اس معنی میں لیا جائے تو اس میں کوئی قباحت پیدا نہیں ہوگی، لیکن اگر اس کو غلو تک پہنچا دیا جائے، تو پھر اس میں قباحت کا آغاز ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر قول میں ایک سچائی کا عنصر ہوتا ہے۔ اس عنصر کو ملحوظ رکھتے ہوئے، جب اس پر عمل کیا جائے، تو وہ اعتدال کا معاملہ رہتا ہے، لیکن جب اس کو منطقی حد (logical end) تک پہنچادیا جائے، تو اس میں مشکلات کا آغاز ہوجائے گا۔
مثلاً اگر ایک عالم کہتا ہے کہ وضو کے وقت تمام اعضا کو ٹھیک سے دھونا چاہیے۔ کے لحاظ سے یہ قول بالکل درست قول ہے۔ لیکن اگر اس کو منطقی حد تک پہنچایا جائے، اور یہ کہا جائے کہ ہر بال کی جڑ تک پانی کو پہنچانا ضروری ہے، یا آنکھ کے اندرونی حصے کو دھونا ضروری ہے، تو یہ غلو کا معاملہ ہوگا، اور دین کے نام پر شدت تک پہنچ جائے گا، جو دین میں مطلوب نہیں۔ اعتدال مطلوب ہے، اور غلو غیر مطلوب۔
قرآن کے مطابق، ہمارا دشمن صرف شیطان ہے جس کو قرآن میں طاغوت کہا گیا ہے۔ ہماری لڑائی صرف شیطان سے ہے، کسی اور سے نہیں۔ انسان کے اندر امتحان کے مقصد سے مختلف قسم کے جذبات رکھے گئے ہیں۔ مثلاً غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ ان جذبات کو غلط رُخ دے کر شیطان ہم کو صحیح راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جب کہ ہمیں شیطان سے لڑنا ہے۔ شیطان کی تزیین (الحجر، 15:39) سے بچنے ہی کا نام تزکیہ ہے اور جولوگ اس اعتبار سے اپنا تزکیہ کریں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو جنت میں داخلہ ملے گا (طٰہ، 20:76) شیطان کے خلاف انسان کی لڑائی صرف نفسیات کی سطح پر ہوتی ہے، تشدد اور ہتھیار کی سطح پر جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، قرآن کے مطابق، انسان ہمارا مدعو ہے۔ وہ ہمارا حریف یا دشمن نہیں۔ انسان کے ساتھ ہمارا تعلق داعی اور مدعو کا ہے، دشمن یا مد مقابل کا نہیں۔ مقابلے میں ہماری ذمے داری یہ ہے کہ ہم اُس کو پر امن طور پر خدا کا پیغام پہنچائیں۔ رسانی کا یہ کام صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو نفرت اور عداوت کے جذبات سے مکمل طور پر خالی نفرت اور دعوت دونوں ایک سینے کے اندر جمع نہیں ہو سکتے۔