I was wrong.
Al-Risala, December 2018, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ اعترافِ خطا جتنا زیادہ شدید ہوگا، اتنا ہی زیادہ بڑا انقلاب آدمی کی شخصیت میں آئے گا۔ اعترافِ خطا کے اعلیٰ درجہ کو قرآن میں توبہ نصوح (التحریم، 66:8) کہا گیا ہے۔ کوئی انسان اس وقت تک ٹھہرا ہوا پانی ہے، جب تک اس کے اندر اعترافِ خطا کا بھونچال نہ آئے۔ اعترافِ خطا کی مثال ایسی ہے، جیسے ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی بڑا پتھر پھینک دیا جائے۔ یہ پتھر پانی کے پورے تالاب کو متحرک کر دیتا ہے۔ یہی توبہ نصوح ہے، اور توبہ نصوح کے بغیر زندگی میں وہ اعلیٰ شخصیت نہیں ابھرتی جس کو قرآن میں احسن العمل (الملک ، 67:2) والی شخصیت کہا گیا ہے۔ زبان میں اس کو اعلیٰ درجے کی ترقی یافتہ شخصیت (highly developed personality) کہا
انسان عزتِ نفس (self respect) کے نام پر اکثر یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کیے بغیر اعلیٰ درجے تک پہنچ جائے۔ اس کو عام طور پر لوگ عزتِ نفس کہتے ہیں۔ عزتِ نفس سے آدمی کو فرضی تسکین تو مل سکتی ہے، مگر شخصیت کے ارتقا کا پر اس جاری نہیں ہوسکتا۔