گفتگو کا اصول
Al-Risala, December 2018, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی سے کوئی گفتگو کی جائے، اور درمیان میں کوئی ایسی بات آجائے جو بظاہر صاحب گفتگو کے نقطۂ نظر کے خلاف ہو، تو وہ فوراً اس کے دفاع میں بولنے لگتا ہے۔ یہ طریقہ علمی گفتگو کا طریقہ نہیں۔ علمی گفتگو کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی بات کو درمیان میں کاٹے بغیر غیر جانبدارانہ انداز میں سنیں۔ دونوں ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی گفتگو کا مقصد میوچول لرننگ (mutual learning) ہو، نہ کہ دوسرے کی بات کو کاٹنا، اور اپنی بات کو صحیح ثابت کرنا۔
گفتگو کا معیار (criterion) یہ ہونا چاہیے کہ دونوں فریق نے اپنے علم میں کیا اضافہ کیا۔ دونوں فریق نے کیا نئی بات سیکھی۔ دونوں فریق نے گفتگو کے موقع کو کس طرح ذہنی ارتقا کے لیے استعمال کیا۔
دو آدمیوں کے درمیان گفتگو کا مقصد مناظرہ (debate) نہیں ہوتا، بلکہ شخصیت کا ارتقا (personality development) ہوتا ہے۔ کوئی آدمی جتنا جانتا ہے، وہی جاننے کی حد نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جاننے کا سمندر بہت وسیع ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ ہر گفتگو کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے، جس سے اس کے علم میں اور اضافہ ہو، اس کی تخلیقی فکر (creative thinking) اور زیادہ ہو جائے۔
اس کے تجربات کی فہرست میں نئے آئٹم شامل ہوں۔ زندگی کی منصوبہ بندی (planning) کے لیے اس کا دائرہ (vista) اور وسیع ہو جائے۔ اس کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج (emerge) کرے ۔ وہ پہلے سے زیادہ پختہ انسان (mature person) بن کر وہ اپنے بارے میں اور دوسرے کے بارے میں زیادہ واقفیت حاصل کرے۔ وہ ماضی اور حال کے بارے میں زیادہ جاننے والا بن جائے۔