حکمت کی تعلیم
Al-Risala, December 2018, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کا رسول انسانوں کو اللہ کی کتاب دیتا ہے، جس میں اللہ کے قوانین درج ہیں، اور اسی کے ساتھ وہ انسان کو حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ حکمت کی تعلیم سے کیا چیز مراد ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم پر عمل کرنا، کوئی سادہ بات نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ دنیا ایک میدان ہے، اور اس میں ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جو کچھ کرنا چاہے، بلا روک ٹوک اپنی مرضی کے مطابق انجام دے سکے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ دنیا میں دوسرے بہت سے انسان آباد ہیں۔ ہر ایک کے اپنے منصوبے ہیں، ہر ایک کا اپنا الگ الگ ایجنڈا ہے۔ میں یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنائے ۔ اگر لوگ ایسا نہ کریں تو سارے لوگ آپس میں لڑیں گے، اور کوئی بھی شخص اپنا کام درست طور پر انجام نہ دے سکے گا۔ ایسی حالت میں انسان کو اپنا کام انجام دینے کے لیے دانش مندانہ منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ دانش مندانہ منصوبے کو ایک لفظ میں پریکٹکل وزڈم کہا جا سکتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی ان آیات میں حکمت سے مراد عملی دانش مندی (practical wisdom) ہے۔ یعنی دوسروں سے ٹکراؤ کے بغیر اپنے منصوبے کو مکمل کرنا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مکہ میں جب آپ نے توحید کا مشن شروع کیا تو وہاں کی اکثر آبادی شرک پر قائم تھی۔ رسول اللہ کو یہ کرنا تھا کہ مشرکین سے ٹکراؤ کیے بغیر اپنا توحید کا منصوبہ پرامن انداز میں عمل میں لائیں۔ توحید کا اصول ایک مطلق اصول ہے۔ اس کے مقابلے میں توحید کو زیرِ عمل لانا، دانش مندانہ منصوبے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹکراؤ کیے بغیر توحید کے منصوبے کو زیرِ عمل لانے کے لیے اس حکمت کو اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کو پریکٹکل وزڈم کہا جاتا ہے۔ پیغمبر یہ کرتا ہے کہ وہ ایک طرف توحید کے اصول لوگوں کو بتاتا ہے، اور دوسری طرف وہ پریکٹکل وزڈم یعنی اس کے اختیار کرنے کے عملی پہلوؤں سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ کوئی نیا
مسئلہ کھڑا کیے بغیر توحید کے عامل بن سکیں۔
غور و تدبر سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں رسول کی نسبت سے جس چیز کو حکمت کہا گیا ہے۔ اس سے مراد یہی پریکٹیکل وزڈم ہے۔ پیغمبر نے اپنی پوری زندگی میں اس پریکٹیکل وزڈم کو اختیار اگر وہ ایسا نہ کرتے تو رسول اور اصحاب رسول لڑائی اور ٹکراؤ کی تاریخ بناتے ، نہ کہ توحید کی اشاعت کی تاریخ۔
مثال کے طور پر رسول اللہ نے مکہ میں توحید کا پیغام دینا شروع کیا تو آپ نے کعبہ سے اس کا آغاز کیا۔ اس وقت کعبہ میں سینکڑوں کی تعداد میں مشرکین نے اپنے بت رکھ دیے تھے۔ اپنے مشن کا آغاز بتوں کو کعبہ سے نکالنے سے شروع کرتے تو یقینا آپ کا مشرکین کے ساتھ ٹکراؤ شروع ہو جاتا، اور کوئی مثبت کام انجام نہ پاتا۔ اسی طرح ہجرت کے وقت ایسا نہ ہوتا کہ آپ پر امن طور پر مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے جاتے اور نہ ہی مدینہ میں اپنے مشن کی ری پلاننگ کرتے۔ حدیبیہ کے موقع پر ایسا نہ ہوتا کہ آپ اور مشرکین کے درمیان نا جنگ معاہدہ تشکیل پاتا، بلکہ دونوں فریق حدیبیہ کو جنگ کا میدان بنا لیتے، وغیرہ۔
پیغمبر کی نسبت سے حکمت کا لفظ سمجھنے کے لیے ہم کو یہ طریقہ اختیار کرنا پڑے گا کہ پیغمبر نے عملاً اس حکمت کو مکہ اور مدینہ میں کس طرح اختیار کیا۔ اس معاملے میں رسول اللہ کا عملی نمونہ بتائے گا کہ وہ چیز کیا تھی، جس کو قرآن میں آپ کی نسبت سے حکمت کہا گیا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس آیت کی تفسیر یہ بنتی ہے کہ الکتاب، رسول اللہ کی تعلیمات کو جاننے کا نظری ماخذ ہے، اور توحید کے مشن کو عرب میں جاری کرنے کے لیے آپ نے جو طریقہ کار اختیار فرمایا، وہ آپ کا عمل ہے، جس کو قرآن میں حکمت کہا گیا ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ الکتاب سے مراد اسلام کی نظری تعلیم ہے، اور حکمت سے مراد اس کا عملی پہلو ہے۔ دوسرے لفظ میں حکمت سے مراد وہی چیز ہے، جس کو پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کہا جاتا ہے۔ یعنی نظری تعلیم کو عمل کی صورت میں ڈھالنا۔