تسفیہ یا تنقید
Al-Risala, December 2018, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مضمون نگار نے ہندوستانی مسلمانوں پر ایک مقالہ شائع کیا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: اس سے زیادہ بے عقلی کی کوئی بات نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ (انڈیا میں) ’’مسلمان ترقی کر رہے ہیں‘‘۔ ایسی بات اسی شخص کی زبان سے نکل سکتی ہے جو ذہنی اور فکری طور پر مفلس ہو گیا ہو یا غباوت کی بلند ترین چوٹی پر ہو (جولائی۔ اس پیرا گراف میں جو جملے ہیں، وہ باعتبار گرامر درست ہیں۔ لیکن اپنے معنی کے اعتبار سے وہ درست نہیں کہے جا سکتے۔ حقیقت کے اعتبار سے دیکھیے تو ترقی عطیے کی چیز نہیں۔ وہ ایک خود حاصل کردہ چیز کا نام اس دنیا میں ہر قسم کے مواقع پھیلے ہوئے ہیں۔ جو فرد یا گروہ ان مواقع کو پہچانے، اور ان کو درست طور پر استعمال کرے، وہ ترقی کرے گا، اور جو فرد یا گروہ ان مواقع کو نہ پہچانے، اور درست منصوبہ کے ذریعہ ان کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے، وہ ترقی سے محروم رہے گا۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ جیسا بونوایسا کاٹنا۔ اصل یہ ہے کہ ترقی کرنا، انسان کا اپنا کام ہے۔ دوسرا انسان اس کو نہ تو ترقی دے سکتا، اور نہ ترقی سے محروم موجودہ زمانے میں ایک نیا دور آیا ہے، اس کو ترقی کا انفجار کہا جا سکتا ہے۔ میں ترقی کے مواقع اتنے زیادہ کھل چکے ہیں کہ کوئی شخص ترقی سے محروم نہیں رہ سکتا، الایہ کہ وہ ترقی کرنا نہ چاہتا ہو۔ موجودہ زمانہ ایک مختلف زمانہ ہے۔ اس زمانے میں اجارہ داری (monopoly) کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ اب آزادی کا دور ہے، نہ کہ اجارہ داری کا دور۔
ایک دن ایک صاحب مجھ سے ملنے کے لیے آئے، وہ میرے گاؤں کے رہنے والے تھے۔ میں ان سے پوچھا کہ دہلی میں کیسے آنا ہوا۔ انھوں نے کہا کہ میرا پوتا انگلینڈ جا رہا ہے، اس کو پہنچانے کے لیے آیا ہوں۔ اس طرح کے تجربے مجھے بار بار ہوتے رہتے ہیں۔ ایک آدمی جس کے پاس پہلے کوئی روزگار نہیں تھا اب وہ روزگار کے نئے طریقوں کو حاصل کرکے ترقی کر رہا ہے، وغیرہ۔