Al-Risala · December 2018

شخصیت کی تبدیلی

Al-Risala, December 2018, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ کے بہت سے اصحاب کے بارے میں کتابوں میں آتا ہے کہ اسلام سے پہلے وہ ایک مختلف انسان تھے، اسلام قبول کرنے کے بعد وہ بالکل دوسرے انسان بن گئے۔ مثلاً پہلے سخت تھے، تو اب نرم ہوگئے۔ پہلے ان کے اندر نفرت کا جذبہ تھا، تو اب وہ انسان سے محبت کرنے والے بن

صحابہ کے اندر یہ تبدیلی کسی کرامت کی بنا پر نہیں ہوئی، بلکہ معلوم سبب سے ہوئی ۔ قبول کرنے کے بعد ان کے دلوں میں اللہ کا ڈر پیدا ہو گیا۔ پہلے وہ بے فکری کی زندگی گزارتے تھے، اب وہ آخرت کو سوچ کر فکر مند زندگی گزارنے لگے، وغیرہ۔ ان چیزوں کے نتیجے میں ان کے اندر نئی وہ آخرت کی جواب دہی کے بارے میں سوچنے لگے۔ ان کے اندر جنت کا شوق پیدا اس طرح ان کے اندر ایک نیا فکری عمل (thinking process) جاری ہو گیا۔ عمل کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ان کی سوچ بدلی۔ سوچ کی اس تبدیلی کے نتیجے میں وہ تبدیلی آئی، جس کو ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں۔

اس طرح کی تبدیلی کسی کرامت کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوتی۔ بلکہ وہ فکری انقلاب کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسان پہلے ذہن کی سطح پر بدلتا ہے۔ اس کے بعد اس کے اخلاق اور کردار میں تبدیلی آتی ہے۔ آدمی کی فکر میں اگر تبدیلی نہ آئے، تو اس کے اندر عمل کے اعتبار سے تبدیلی بھی نہیں آدمی پہلے شعور کی سطح پر بدلتا ہے، اس کے بعد وہ عمل کی سطح پر ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ یہ ایک خاموش پر اسس (silent process) ہے، جو ہر اس انسان کی زندگی میں پیدا ہوتا ہے، جو سوچ سمجھ کر اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کرے۔

ایسے لوگوں کا کیس یہ تھا کہ پہلے وہ بے خبری کی زندگی گزار رہے تھے۔ بعد کو جب انھیں حقیقت کی دریافت ہوئی، تو ان کا ذہن جاگ اٹھا۔ وہ اپنے ماضی اور مستقبل کے بارے میں سوچنے

وہ اپنے بارے میں یہ سوچنے لگے کہ انھوں نے زندگی میں کمیا کھویا، اور کیا پایا۔ انھوں نے اپنا محاسبہ شروع کر دیا۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ اپنے حال اور اپنے مستقبل پر غور کرنے لگے۔ بے لاگ انداز میں اپنا جائزہ لینے لگے۔ اس سوچ نے ان کے اندر ایک فکری انقلاب پیدا کر دیا۔ ان کے اندر یہ سوچ پیدا ہوئی کہ اگر چہ انھوں نے اپنے ماضی کو کھویا ہے، لیکن مستقبل اب بھی ان کے ان کو یہ کرنا چاہیے کہ درست پلاننگ کے ذریعے اپنے مستقبل کو بچائیں۔ پیچھے کی بربادی کی تلافی آگے کی نتیجہ خیز پلاننگ کے ذریعے کریں۔ یہی فکر تھی، جس نے ان کو ایک نیا انسان بنا دیا۔ صحابہ تمام مسلمانوں کے لیے نمونہ ہیں۔ یہ نمونہ وہ اس لیے نہیں ہیں کہ وہ مقدس تھے۔ اس لیے نمونہ ہیں کہ انھوں نے اپنے زندگی کی نئی منصوبہ بندی کی۔ انھوں نے اپنی کی کو دریافت کیا، انھوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا، اور درست منصوبہ بندی کے ذریعے اپنی زندگی کی نئی تعمیر کی۔ خلافت یا نظامِ صالح کوئی ایسی چیز نہیں جو کاغذ سے نکل کر زمین پر قائم ہو جائے۔ اس دنیا میں صالح نظام کو قائم کرنے کے لیے ہمیشہ صالح افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر صالح افراد موجود نہ ہوں تو خلافت یا نظامِ صالح کا نام لینے سے کوئی صالح نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ عمل اور نتیجے کے درمیان فرق کا معاملہ ہے۔ اگر آپ پھل چاہتے ہوں تو پہلے آپ کو شجرکاری پر عمل کرنا ہوگا۔ کے میدان میں ضروری عمل کے بغیر کبھی کوئی شخص پھل کا مالک نہیں بن سکتا۔ یہی معاملہ خلافت یا نظامِ صالح کے قیام کا بھی ہے۔ کرنے والوں کو سب سے پہلے یہ کرنا ہے کہ وہ افراد کے اندر اعلیٰ ایمانی شعور جگائیں۔ وہ لوگوں کے اندر بلند کرداری پیدا کریں۔ وہ ایسے افراد تیار کریں جو ہر قسم کے نفسانی محرکات سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرنے والے ہوں۔ جن کے اندر یہ استعداد پیدا ہو چکی ہو کہ وہ اقتدار پا کر بھی متواضع بنے رہیں۔ زمین کے خزانے ان کے ہاتھوں میں آئیں مگر وہ مال کی محبت میں مبتلا نہ ہوں۔ لوگوں کی طرف سے ان کی انا کو چوٹ لگے، اس کے باوجود وہ انصاف کے اصول پر قائم رہیں۔ ایسے افراد ہی کوئی صالح نظام قائم کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے بغیر خلافت یا صالح نظام کا نعرہ لگانا صرف فساد فی الارض ہے، نہ کہ حقیقی معنی میں کوئی نتیجہ خیز عمل۔

Printed page