Al-Risala · January 2018

اگلی نسل تک سے امید رکھنا

Al-Risala, January 2018, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کی ایک گفتگو اپنی اہلیہ عائشہ کے ساتھ ان الفاظ میں آئی ہے: حضرت عائشہ سے روایت ہے، انہوں نے پیغمبر اسلام سے کہا کہ کیا یوم احد سے بھی سخت دن آپ پر آیا ہے، آپ نے کہا کہ میں نے تمہاری قوم کی جو جو تکلیفیں اٹھائی ہیں وہ اٹھائی ہیں، اور سب سے زیادہ تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن (طائف کے سفر میں) تھی جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میرے ساتھ وہ نہیں کیا جو میں نے چاہا، میں رنجیدہ ہو کر سیدھا چلا، ابھی میں ہوش میں نہ آیا تھا کہ قرن الثعالب میں پہنچ کر میں نے اپنا سر اٹھایا تو بادل کے ایک ٹکڑے کو اپنے اوپر سایہ فگن پایا، میں نے دیکھا کہ اس میں جبریل تھے، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے آپ کی قوم کی گفتگو اور ان کا جواب سن لیا ہے، اب پہاڑوں کے فرشتہ کو آپ کے پاس بھیجا ہے تا کہ آپ ایسے منکروں کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں۔ پہاڑوں کے فرشتہ نے آواز دی اور سلام کیا پھر کہا کہ اے محمد، یہ سب کچھ آپ کی مرضی ہے، اگر آپ چاہیں تو میں اخشبین نامی دو پہاڑوں کو ان منکروں پر لا کر رکھ دوں تو پیغمبر اسلام نے فرمایا (نہیں)

بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان منکروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231) اس کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کا مشن انسان کی خیر خواہی کا مشن تھا۔ انسان کے ساتھ آپ کی خیر خواہی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی تھی کہ اگر پہلی نسل آپ کے پیغام کو نہ سنے تو آپ اس کے لیے تیار تھے کہ ان کی اگلی نسلیں ان سے مختلف ثابت ہوں گی، اور آپ کے پیغام کو قبول کریں گی، اور آپ کے مشن میں آپ کی ساتھی بن جائیں گی۔

Printed page