مدرسہ کے طلبہ کے نام
Al-Risala, February 2018, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل روایت حدیث کی کتابوں میں آئی اس میں دیگر باتوں کے علاوہ مسلم عاقل کی صفات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اس کو اپنے زمانہ سے باخبر ہونا چاہئے (أن يكون بصيرا بزمانه)۔ صحیح ابن حبان، حدیث نمبر یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے۔ آپ کو چاہئے کہ آپ صرف واقف دین نہ بنیں، بلکہ اسی کے ساتھ واقف زمانہ بھی بنیں۔ اس کے بعد ہی آپ موجودہ زمانہ میں دین کی صحیح خدمت کر سکتے ہیں۔ واقف زمانہ بننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی کمیونٹی کے خلاف ہونے والے ظلم اور سازش“ کو جاننے والے بن جائیں۔ یہ میرے نزدیک سطحیّت ہے، نہ کہ علم۔ یعنی یہ ظواہر کو جاننا اور حقائق سے بے خبر رہنا ہے۔ علم بلاشبہ یہ ہے کہ آدمی اصل حقیقت کو جانے، نہ یہ کہ اس کی نگاہ ظاہری چیزوں پر اٹک کر رہ جائے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ دوسری قو میں مسلمانوں کے خلاف سازش اور ظلم میں مصروف ہیں، تب بھی اصل جاننے کی بات یہ ہے کہ وہ کیا اسباب ہیں جنہوں نے ان قوموں کو یہ حیثیت دے دی ہے کہ وہ ہمارے خلاف کامیاب سازشیں کر سکیں۔ وہ ہمارے خلاف اپنے منصوبوں کی کامیاب تعمیل کریں اور ہمارے تمام اعاظم واکابر اس کو روکنے میں مکمل طور پر عاجز ثابت ہوں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اصل کمی یہ ہے کہ وہ عصر حاضر سے ناواقف (unaware) وہ ماضی کو جانتے ہیں، مگر حال کی انہیں مطلق خبر نہیں۔ ان میں سے کوئی شخص اگر کچھ جانتا ہے تو وہ بھی کچھ ظاہری چیزوں کو جانتا ہے، نہ کہ گہرے معنوں میں حقیقی حالات کو۔ دینی مدرسوں کے طلبہ اگر صرف حیوان کا سب بن کر نہیں رہنا چاہتے، بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مفید طورپر لگائیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ عصر حاضر کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ جانیں، وہ موجودہ زمانہ کی ان تبدیلیوں سے واقفیت حاصل کریں جنہوں نے ہمارے مروجہ طریقوں کو عملی اعتبار سے بالکل غیر موثر بنا دیا ہے۔