Al-Risala · February 2018

✩✩✩✩✩✩✩

Al-Risala, February 2018, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

میرا ترجہ یہ ہے کہ لوگ دوسروں کے سامنے تجویزیں تو خوب پیش کر۔ سا ہے کہ یہ تے ہیں مگر میرا تجربہ ہے کہ لوگ دوسروں کے سامنے جو چیزیں لوحوب پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملے میں خود اُن کی اپنی ذمہ داری کیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ فلاں موضوع پر کتاب تیار کر کے اس کو چھپائیے۔ میں نے کہا کہ میں نے بہت سے دینی موضوعات پر کتابیں تیار کر کے چھاپی ہیں، ان کے سلسلے میں آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ آپ پہلے چھپی ہوئی کتابوں کو پھیلا کر اپنی ذمے داری ادا کیجئے۔ اس کے بعد نئی کتابوں کی تجویز پیش کیجئے۔ اس قسم کا آپ کے برے رویوں اور عادتوں سے بھری ہوئی اس طرح کی زندگی سے گھٹن زدہ ذہن کوئی صحت مند ذہن نہیں۔

Printed page