ایک انسانی کردار
Al-Risala, February 2018, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک انسانی کردار کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَا أَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ أَنْ يُحْمَدُوْا بِمَالَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ یعنی جو لوگ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کئے اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ میں ایک اور جگہ ایسے لوگوں کے لیے یہ آیا ہے: يُخَادِعُوْنَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُوْنَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ (2:9)۔
کچھ لوگوں کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے تو وہ بے مقصد انسان ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے ذاتی انٹرسٹ کے سوا کسی اور چیز سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ لیکن بڑے بڑے الفاظ بول کر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک با مقصد انسان ہیں۔ وہ ایک مقصد کے لیے جینے والے، اور ایک مقصد کے لیے مرنے والے ہیں۔ لیکن تجربے میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اپنے ذاتی انٹرسٹ کے سوا کسی اور چیز سے کوئی مطلب نہیں۔ وہ با مقصد انسان نہیں ہیں، بلکہ وہ صرف مفاد پرست انسان (man of interest) ہیں۔ ان کا سول کنسرن عملاً صرف ذاتی انٹرسٹ ہے۔ لیکن الفاظ کی سطح پر وہ بے تکان یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ با مقصد انسان ہیں، اور ان کا فیصلہ ہے کہ وہ مقصد کے لیے جئیں گے، اور مقصد کے لیے مریں گے۔
ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کو ایسے کام کا کریڈٹ دیا جائے، جس کو انھوں نے انجام ہی نہیں دیا ہے۔ ایسے لوگ انسان کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں، اور خدا کو لیکن ان کی یہ کوشش چلنے والی نہیں۔ قول کی سطح پر خواہ کچھ بھی وہ کہیں، لیکن عمل کی سطح پر وہ کہیں نہ کہیں ایکسپوز ہو جائیں گے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا، جیسا کہ وہ حقیقۃً ہیں، نہ کہ جیسا کہ وہ اپنے آپ کو لفظوں کے ذریعہ ظاہر کر رہے ہیں۔