Al-Risala · January 2018

حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا

Al-Risala, January 2018, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

مکی دور میں پیغمبر اسلام کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا تھا، جو سلوک دوسرے پیغمبروں کے ساتھ کیا گیا، یعنی استہزا (الحجر: 11)۔ مگر پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہمیشہ منفی واقعات کا جواب مثبت انداز میں دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں اس طرح آئی ہے، پیغمبر اسلام نے کہا: ألا تعجبون كيف يصرف الله عني شتم قريش ولعنهم، يشتمون مذممممممما، ويلعنون مذمما وأنا محمد (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ یعنی کیا تم کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو کس طرح دور کر رہا ہے۔ مذم کہہ کر شتم کرتے ہیں، مذمم کہہ کر وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے لوگ اپنی بڑھی ہوئی مخالفت کی بنا پر اس کو پسند نہیں کرتے کہ وہ میرا اصل نام بولیں، اور میرے خلاف جو کہنا چاہتے ہیں، وہ میرا نام لے کر کہیں انھوں نے مخالفت کے جوش میں بطور خود میرا نام محمد کے بجائے مذم رکھ دیا، اور وہ مذم کا نام بول کر میرا سب وشتم کرتے ہیں۔ یعنی وہ سب وشتم تو کرتے ہیں، لیکن جس شخص کی وہ سب وشتم کرتے ہیں، اس کا نام انھوں نے بطور خود مذم رکھ دیا ہے۔ اس طرح ان کے اپنے کہنے کے مطابق ان کی بات کسی ایسے شخص پر پڑتی ہے جس کا نام مذم ہو، وہ شخص جس کا نام محمد ہے اس پر ان کی بات پڑتی ہی نہیں۔ یہ اعلی سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔ پیغمبر اسلام چوں کہ مکمل طور پر مثبت سوچ پر قائم

اس لیے انھوں نے ایک لطیف اسلوب میں قریش کے سب وشتم کو بے حقیقت کر دیا۔ نے کہا کہ جب وہ میرا اصل نام لے کر مجھے کچھ نہیں کہتے تو وہ خود ہی اپنے سب وشتم کو کسی اور کے اوپر ڈال رہے ہیں۔ یعنی کسی مفروضہ مذم پر، نہ کہ اس شخص پر جس کا نام اس کے ماں باپ نے محمد رکھا اس سے معلوم ہوا کہ اسوۂ محمدی میں سب وشتم پر مشتعل ہونا نہیں ہے، اور نہ شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ بلکہ اس سے لطیف پیرائے میں اعراض کرنا ہے۔ یہ بلند اخلاقی کا معاملہ ہے، نہ قانونی سزا کا معاملہ۔

Printed page