Al-Risala · February 2018

جہاد کیا ہے

Al-Risala, February 2018, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کر رہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھیڑی ہوئی لڑائیاں ہیں جن کو غلط طور پر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔

جہاد اصلاً پرامن جدوجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنی نہیں۔ کبھی توسیعی استعمال کے طور پر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنی الفاظ یہاں اس سلسلہ میں قرآن وحدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کئے جاتے ہیں: قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (29:69)۔ یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہماری خاطر تو ہم اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔ اس آیت میں تلاش حق کو جہاد کہا گیا ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈھنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔

اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِم (49:15)۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق، اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔

اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52) یعنی غیر مومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پر امن جدوجہد کرو۔

اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله (مسند احمد، حدیث نمبر 23958)۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد

اس سے معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑ کر اپنے آپ کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنا جہاد ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طور پر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طور پر کسی جنگ کے میدان میں۔

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحج جہاد (ابن ماجہ، حدیث نمبر 2902)۔ یعنی حج جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کے بارے میں فرمایا : ففيهما فجاهد (البخاری، حدیث نمبر 3004) یعنی تم اپنے والدین میں جہاد اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا جہاد کا ایک عمل ہے۔ اس طرح کی مختلف آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا عمل اصلاً ایک پرامن عمل ہے۔ وہ کسی مطلوب خدائی کام میں پرامن دائرہ کے اندر جد و جہد کرنا ہے۔ جہاد کے لفظ کا صحیح ترجمہ پرامن جد و جہد (peaceful struggle) ہے۔

مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کی فطری بنیاد یہ ہے کہ دونوں یکساں طور پر انسان ہیں ۔ دونوں کے درمیان انسانیت کا ابدی رشتہ قائم انسانیت کا تعلق دونوں کے درمیان وہ فطری تعلق ہے جو کبھی اور کسی حال میں ٹوٹنے والا نہیں ۔ ہر سماج میں اور ہر ملک میں یہ انسانی رشتہ یکساں طور پر برقرار رہتا ہے ۔ یہ رشتہ وہ ہے جو پیدائش کے ساتھ ہی دونوں گروہوں کے درمیان اپنے آپ قائم ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا اٹل رشتہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔

Printed page