Al-Risala · January 2018

مشن کی نئی پلاننگ

Al-Risala, January 2018, pp. 9–10

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام نے اپنا مشن قدیم مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت قدیم مکہ شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس لیے وہاں آپ کی شدید مخالفت ہوئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے آپ کو الٹی میٹم دے دیا کہ آپ مکہ کو چھوڑ دیں، ورنہ ہم آپ کو قتل کر دیں گے۔ ان حالات میں آپ نے مکہ کو چھوڑ دیا، اور خاموشی کے ساتھ مدینہ آ کر وہاں رہائش اختیار کرلی۔ ہجرت سے کچھ پہلے آپ نے اپنے اصحاب سے کہا تھا: أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون يثرب، وهي المدينة (صحیح البخاری، حدیث نمبر عام رواج کے مطابق کوئی شخص آسانی سے اپنا وطن نہیں چھوڑتا، بلکہ اس فیصلہ کو بدلوانے کی ہر کوشش شروع کر دیتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ کے سرداروں کے اس فیصلہ کو قبول کر لیا، اور خاموشی سے مدینہ آ کر آباد ہو گئے۔

اپنے نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ ایک نہایت حکیمانہ عمل تھا— یعنی اگر پہلا منصوبہ ورک نہ کرے تو لو پروفائل (low profile) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ اپنے عمل کا دوسرا منصوبہ بنانا۔ آپ نے ایسا ہی کیا، اور آپ نے پرامن طور پر مدینہ آ کر یہاں ازسرِ نو اپنے مشن کا منصوبہ بنایا۔ آپ کا یہ طریقہ اتنا کامیاب ہوا کہ صرف دس سال کے اندر پہلے مکہ اور پھر سارا عرب آپ کے دائرے میں آ گیا۔

ایسے حالات میں عام طور پر لوگ جوابی ذہن کے تحت سوچتے ہیں، اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار

لیکن پیغمبرِ اسلام نے ٹکراؤ کے بجائے ری پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا، اور تجربہ بتاتا ہے کہ آپ کا منصوبہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔

Printed page