ہر حال میں مثبت طرزِ فکر
Al-Risala, January 2018, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا۔ اس وقت مکہ میں قبائلی کلچر (tribal culture) شدت کے ساتھ موجود تھا۔ وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ ہر قسم کا برا یہاں تک کہ تیرہ سال بعد آپ نے مجبور ہو کر اپنے وطن کو چھوڑ دیا، اور مکہ سے تقریبا 500 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود مدینہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقیم ہوگئے۔ یہ شدید ترین معنوں میں جلاوطنی کا کیس تھا۔ عام رواج یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے نئے وطن میں جا کر صرف ایک کام کرتے ہیں، اور وہ اپنے سابق ہم وطنوں کی برائیاں بیان کرنا۔ اسلام نے اس سے الگ ایک انتہائی طور پر مختلف طریقہ اختیار کیا۔ وہ یہ کہ آپ مدینہ جا کر اس طرح رہنے لگے، جیسے کہ مکہ میں آپ کے ساتھ کچھ بھی نہ ہوا ہو۔
سیرت ابن ہشام میں ہجرت کے بعد کے واقعات کا ذکر ہے۔ اس کے تحت پیغمبر اسلام کے پہلے خطبہ کا ذکر ہے۔ اس باب کا پہلا پیرا گراف ان الفاظ میں آیا ہے : اَوَّلُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا یعنی پہلا خطبہ جو آپ نے مدینہ میں دیا۔
اس خطبہ کو جو پڑھے وہ حیرت انگیز طور پر پائے گا کہ اس خطبہ میں ان لوگوں کے خلاف کوئی شکایت کی بات نہیں ہے، جنھوں نے آپ کو اپنے وطن سے نکال دیا تھا۔ عام رواج یہ ہے کہ ایسے موقع پر جلا وطن افراد اپنے نئے وطنی لوگوں کو ابھارتے ہیں تا کہ وہ ان کے ساتھ اپنے قدیم ہم وطنوں کے خلاف جوابی کارروائی کریں۔ مگر پیغمبر اسلام نے اس قسم کی کوئی بات اشارے کی زبان میں بھی اس خطبہ کا خلاصہ یہ تھا : فمن استطاع أن يقي وجهه من النار ولو بشق من تمرة فليفعل، ومن لم يجد فبكلمة طيبة (سیرت ابن ہشام، 1-1/500)۔
خطبہ کے مذکورہ الفاظ پر غور کیجیے۔ اس کا خلاصہ دوسرے لفظوں میں یہ ہے۔
لوگ آپ کو ’آگ‘ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن آپ کا دل ان کی ہمدردی سے بھرا ہوا آپ ان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ سے بچاؤ۔ یہ ہے پیغمبرانہ حکمت۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ آپ کے دشمن بنیں، آپ ان کے خیر خواہ بن جائیں۔ جو لوگ آپ پر ظلم کریں، آپ اللہ سے ان کے لیے اچھے اجر کے طالب بن جائیں۔ جو لوگ آپ کو نہ دیں، آپ ان کے لیے دینے والے (giver) بن جائیں، اور ان کے لیے داعی بن کر ان کے ساتھ مدعو فرینڈلی روش اختیار کریں۔ پیغمبر اسلام کی یہ روش صرف ایک اخلاقی روش نہیں ہے، بلکہ وہ اعلیٰ درجے کی دانش مندی کا معاملہ ہے۔