Al-Risala · March 2019

ایک اچھی مثال

Al-Risala, March 2019, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بار دہلی کے ایک کالج کے استاد نے بتایا کہ دہلی میں طلبا کا ایک تقریری مقابلہ ہوا۔ اس میں مختلف کالجوں کے منتخب طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔ ہر طالب علم کو انگریزی زبان میں تقریر کرنا تھا۔ ان تقریروں میں جج کو جو بنیادی چیز دیکھنا تھا، وہ طرزِ ادا یا طرزِ تقریر (delivery) ڈاکٹر مرچنٹ کی لڑکی کا طرزِ تقریر سب سے زیادہ کامیاب تھا، چناں چہ اُس کو پہلا انعام دیا گیا۔ اس کامیابی کا راز کیا تھا، اس کا جواب مجھے 26 اگست 2009 کو ملا۔ سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک پروگرام کے دوران میری ملاقات ڈاکٹر آر کے مرچنٹ سے ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور دہلی میں رہتے ہیں۔ اُن سے ملاقات کے دوران ریٹائرڈ جنرل چھبّر اور دوسرے کئی لوگ ڈاکٹر مرچنٹ نے کہا کہ میرے گھر میں ٹی وی نہیں ہے، میں ریو کے ذریعے خبریں سنتا ان کی اس بات میں مجھے اس سوال کا جواب مل گیا کہ اُن کے بچے کیوں تعلیم میں اتنا زیادہ اس سے پہلے میں ایک بار ڈاکٹر مرچنٹ کے گھر گیا ہوں۔ وہاں میں نے دیکھا تھا کہ اُن کا گھر بہت سادہ ہے۔ ان کی ڈولر کیا ہاں ہیں۔ دونوں خاموشی کے ساتھ لکھنے پڑھنے میں مشغول ڈاکٹر مرچنٹ کے پاس ذاتی کار ہے، لیکن ان کی لڑکیاں ہمیشہ بس کے ذریعے اسکول ان کے گھر میں ٹی وی کلچر کا کوئی نشان مجھے نظر نہیں آیا۔ یہی سادہ اور با اصول زندگی ڈاکٹر مرچنٹ کے بچوں کی کامیابی کا اصل سبب ہے۔

آج کل ہر باپ اپنی اولاد کی شکایت کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر باپ کو خود اپنی شکایت کرنا چاہیے ۔ عام طور پر والدین یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کے ماحول کو سادہ نہیں ان کی سب سے بڑی خواہش یہ رہتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہر شوق کو پورا کر سکیں۔ وہ اپنے بچوں کو ڈی ٹی وی کلچر کا عادی بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو گھروں کے بگاڑ کا اصل سبب اس بگاڑ کی تمام تر ذمے داری والدین پر ہے، نہ کہ اولاد پر۔

Printed page