Al-Risala · January 2019

الرسالہ کا ایک سبق

Al-Risala, January 2019, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

عام طور پر الرسالہ میں آیت کا ترجمہ دیا جاتا ہے، مگر کبھی کبھی ترجمہ موجود نہیں ہوتا۔ کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ الرسالہ کے قاری براہ راست طور پر قرآن سے مربوط ہوں۔ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں چھپا ہوا با ترجمہ قرآن ہر گھر میں موجود رہتا ہے۔ اور اگر بالفرض کسی کے گھر میں با ترجمہ قرآن موجود نہ ہو تو اس کو پہلی فرصت میں با ترجمہ قرآن حاصل کر کے اپنے گھر میں ہمارا مقصد یہ ہے کہ جب بھی الرسالہ کا قاری ایسی کسی آیت کو الرسالہ میں پڑھے تو وہ قرآن کھول کر حوالہ کے ذریعے مذکورہ آیت نکالے اور اس کو پڑھ کر اس آیت کا ترجمہ معلوم کرے۔ اس طرح اُس کے مطالعہ کا تاثر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

قرآن کی حیثیت زندگی کے معاملات میں ایک ریفرنس بک (reference book) کی پرنٹنگ پریس سے پہلے ایسا ہوتا تھا کہ اکثر مسلمان قرآن کے حافظ ہوتے تھے۔ کوئی معاملہ پیش آتا، تو وہ اپنے حافظے کی مدد سے قرآن کی اس آیت تک پہنچ جاتے اور اُس سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرتے۔ اب پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے اور با ترجمہ قرآن کے نسخے چھے ہوئے تقریباً ہر گھر میں موجود ہیں، اور بالفرض اگر کسی کے گھر میں با ترجمہ قرآن موجود نہ ہو تو بہت آسانی کے ساتھ وہ اس کو قریبی مارکیٹ سے حاصل کر سکتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ الرسالہ کا ہر قاری قرآن کو اپنے لیے ایک ریفرنس بک بنا لے ۔ جب بھی قرآن کی کوئی آیت اس کے سامنے آئے تو خواہ وہاں اس کا ترجمہ موجود ہو یا موجود نہ ہو، ہر حال میں وہ اس آیت کو اپنے با ترجمہ قرآن میں براہ اس طرح اس کا تعلق قرآن سے بڑھے گا اور اس کے یقین میں اضافہ ہوگا۔ الرسالہ محض ایک ماہ نامہ پرچہ نہیں، وہ ایک دینی تحریک ہے۔ الرسالہ کا مقصد یہ ہے کہ قرآنی خطوط پر لوگوں کی ذہنی تربیت کی جائے۔ یہ مقصد اس وقت پورا ہوتا ہے جب کہ الرسالہ کے قارئین الرسالہ کو قرآن سے ملا کر پڑھیں ۔ میرا مشورہ ہے کہ قارئین الرسالہ ہمارے یہاں کی چھپی

ہوئی تفسیر تذکیر القرآن کا ایک نسخہ اپنے پاس رکھیں۔ آپ تذکیر القرآن کا مطالعہ الگ سے بھی کریں اور رسالہ کو پڑھتے ہوئے بھی جہاں کوئی آیت آئے تو اس کو بھی تذکیر القرآن سے ملا کر دیکھیں۔ اس طرح آپ کے مطالعہ کی دینی افادیت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

الرسالہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ وقت گزاری کے طور پر اس کو پڑھ لیا جائے۔ الرسالہ کی اس تحریکی نوعیت کا تقاضا ہے کہ اس کو باقاعدہ اور منظم مطالعے کے انداز میں پڑھا جائے۔ الرسالہ کے مطالعے کو مکمل ذہنی سرگرمی کا ذریعہ بنا دیا جائے۔ مجھے کئی بار یہ تجربہ ہوا ہے کہ ایک شخص مجھ سے ملے گا۔ وہ چند گھنٹے میرے ساتھ گزارے گا، پھر جاتے ہوئے وہ کہے گا کہ میں برسوں سے ماہ نامہ الرسالہ اور آپ کی کتابیں پڑھ رہا تھا اور اس سے متاثر تھا، لیکن چند گھنٹہ آپ کی صحبت میں بیٹھنے سے جو فائدہ ہوا، وہ برسوں تک الرسالہ اور کتابیں پڑھنے سے نہیں ہوا تھا۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگ ماہ نامہ الرسالہ کو صرف انٹرسٹ ریڈنگ (interest reading) کے لیے پڑھتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس طرح ہوتا ہے کہ جب اُن سے پوچھا جائے کہ آپ الرسالہ کیوں پڑھتے ہیں، تو وہ کہیں گے کہ اُس میں نئی نئی معلومات ہوتی ہیں۔ اس کا اسلوب منفرد ہے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے نتائج نکالے جاتے جو لوگ اس قسم کی بات کہتے ہیں، وہ ابھی تک صحیح معنوں میں الرسالہ کے قاری نہیں بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو صحبت سے جو چیز ملتی ہے، وہ ان کو الرسالہ کے مطالعے سے نہیں ملتی۔ الرسالہ کے مطالعے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو کئی بار پڑھا جائے۔ اگر ممکن ہو تو اس کے حوالوں کو دوبارہ اصل کتاب میں دیکھا جائے۔ الرسالہ کے مضامین پر علمی انداز میں باہم مذاکرہ مزید غور و فکر کے ذریعے سطور کے درمیان اس کے بین السطور کو جاننے کی کوشش کی جو لوگ اس طرح الرسالہ کا مطالعہ کریں، ان کے لیے الرسالہ کا مطالعہ، ایک زندہ مطالعہ بن جو چیز انھوں نے ’’صحبت‘‘ کے ذریعے پائی تھی، وہ اس کو الرسالہ کے مطالعے کے دوران

Printed page