بچوں کا دکھ جھیل رہے ہیں
Al-Risala, March 2019, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سینئر مسلم تاجر سے ایک صاحب نے پوچھا کہ آپ کو خدا نے 95 سال کی عمر دی، یعنی تقریباً ایک صدی۔ اس لمبی زندگی میں آپ نے کیا سیکھا اور کیا تجربہ کیا۔ اس سوال کے بعد وہ دومنٹ چپ رہے۔ اس کے بعد انھوں نے نہایت سنجیدہ انداز میں کہا۔ کوئی تجربہ نہیں۔ بڑے ہوئے تو بزنس میں لگ گئے۔ شادی کی اور بچے پیدا کیے۔ بچوں کو سیٹل اب آخر عمر میں بچوں کا دکھ جھیل رہے ہیں، اور موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں یہی ہر گھر کی کہانی ہے۔ موجودہ زمانے میں تقریباً ہر ماں باپ کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی تمام محبتوں کا مرکز بناتے ہیں۔ بچوں کی زندگی سنوارنے کے لیے وہ سب کچھ کر ڈالتے ہیں، مگر آخر میں ہر ایک کا یہ حال ہوتا ہے کہ بچے غیر وفادار نکلتے ہیں۔ وہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی آزاد زندگی بنا لیتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں ماں باپ کی خدمت ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے۔ بچوں کی ترقی کو ماں باپ اس حسرت کے ساتھ دیکھتے رہتے ہیں کہ جس پیڑ کو ہم نے محنت کرکے اگایا تھا، اُس پیڑ کا سایہ اُنھیں حاصل نہیں ہوا۔
حدیث میں آیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ بچے اپنے دوست کے ساتھ حسن سلوک کریں گے، اور اپنے ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کریں گے (بَرَّ صَدِيقَهُ، وَجَفَا أَبَاهُ)۔ الترمذی، حدیث نمبر 2210۔ یہ حدیثِ رسول ، موجودہ زمانے پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ ساری دنیا میں عمومی طور پر ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اس واقعے کا سب سے زیادہ بُرا حصہ اُن لوگوں کو مل رہا ہے جو ساری زندگی بچوں کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں، اور آخر میں ان کے حصے میں غم کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ مزید یہ کہ ایسے ماں باپ اُس حدیث کا مصداق ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ گھاٹے میں وہ شخص ہے جو دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو کھودے (أَذْهَبَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ) سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 3966۔