Al-Risala · March 2019

اہل وعیال کا فتنہ

Al-Risala, March 2019, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کی کتابوں میں اہل وعیال کے بارے میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن میں سے دو روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اَلْوَيْلُ كُلُّ الْوَيْلِ لِمَنْ تَرَكَ عِيَالَهُ بِخَيْرٍ وَقَدِمَ عَلَى رَبِّهِ بَشَرٌ (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 314)۔ تباہی وبربادی ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے عیال کو اچھی حالت میں چھوڑا، اور خود برے حال میں اپنے رب کے پاس پہنچا۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ أكل عِيَالَه حَسَنَاته حَسَنَاتہ(تخریج الأحادیث فی تفسیر الكشاف للزيلعی، حدیث نمبر 1357)۔ کے دن ایک شخص لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے اہل وعیال اس کی نیکیاں کھا گئے۔ قدیم زمانے میں صرف کچھ افراد اس قسم کے ہوتے تھے، لیکن موجودہ زمانے میں اس پہلو سے بگاڑ کا یہ حال ہے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تمام لوگ اس تباہ کن کمزوری کا شکار ہو گئے اس کم زوری کا سبب حب عیال ہے۔ بظاہر لوگ خدا کا اور اسلام کا نام لیتے ہیں، لیکن اُن کی محبتیں صرف اپنے اہل و عیال سے ہوتی ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُن کا سب سے بڑا کنسرن اُن کے اہل وعیال ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال و اسباب کو اپنے اہل وعیال کے لیے وقف کیے موت ایسے لوگوں کے لیے ایک جبری انقطاع (compulsive detachment) کے طور پر آتی ہے۔ ایسے لوگ جب موت کے بعد خدا کے پاس پہنچتے ہیں تو وہاں کے لیے اُن کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی محرومی ہے۔ حدیث کے مطابق، یہ دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کرنا ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3966)۔ مزید یہ کہ یہ اہل و عیال جن کو آدمی اپنا سب کچھ دے دیتا ہے، وہ موت کے بعد اُس سے اس طرح جدا ہو جاتے ہیں کہ دوبارہ وہ اُس کو کبھی نہیں ملتے۔

Printed page