مشن، انٹرایکشن
Al-Risala, January 2019, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب لکھتے ہیں: میں کافی عرصے سے مستقل طور پر آپ کے مؤقر علمی اور دعوتی مجلہ ماہ نامہ الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ میں نے ہر لحاظ سے الرسالہ کو مفید اور چشم کشا پایا ہے۔ دیگر اساتذہ بھی الرسالہ سے برابر استفادہ کر رہے ہیں۔ ادارے کے بہت سے نزاعی امور کو حل کرنے میں بھی الرسالہ نے ہمیں حکیمانہ رہنمائی دی اور کئی نازک مسائل نہایت احسن طریقے سے حل تاہم ایک چیز جو مجھے آپ سے عرض کرنا ہے، وہ یہ کہ بسا اوقات آپ ایک انگریزی عبارت نقل کرتے ہیں، مگر اس کا ترجمہ درج نہیں ہوتا۔ اس سے پوری بات سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اگر آپ ہر انگریزی عبارت کا ترجمہ بھی تحریر فرمادیں تو ہم جیسے لوگوں کے لیے الرسالہ سے مزید استفادہ کرنا آسان ہو جائے گا (مولانا محمد شاہد قاسمی، ہریانہ)۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ماہ نامہ الرسالہ میں انگریزی عبارتیں بھی ہوتی ہیں اور قرآن اور حدیث کے حوالے بھی۔ اکثر ان کا ترجمہ ساتھ ساتھ موجود رہتا ہے، مگر کبھی کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ بھول کر نہیں ہوتا، بلکہ ایسا باقصد کیا جاتا ہے۔ ایسا ایک مقصد کے تحت کیا جاتا ہے۔ قارئین کو چاہیے کہ وہ اس مقصد کو سمجھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، الرسالہ ایک مشن ہے۔ مشن لازمی طور پر انٹرایکشن (interaction) بعض اوقات ترجمہ نہ دینے کا مقصد قارئین کے لیے انٹرایکشن کے انھیں مواقع کو پیدا کرنا مثلاً جب الرسالہ میں کوئی انگریزی لفظ یا انگریزی جملے ہوں اور ان کا ترجمہ وہاں موجود نہ ہو، تو غیر انگریزی داں قاری کو چاہیے کہ وہ الرسالہ کو لے کر آس پاس کے کسی انگریزی داں آدمی سے ملے، اور اُس کے ذریعے سے انگریزی عبارت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اس طرح، قارئین الرسالہ کی ملاقات دوسرے لوگوں سے ہوگی اور نتیجہً ایسی ملاقات مشن کی توسیع کا ذریعہ بن جائے گی۔ اسی طرح، جب کبھی الرسالہ میں قرآن اور حدیث کا کوئی حوالہ ہو اور وہاں اس کا ترجمه موجود
برہم توغع کے درمیان رقابت کی وجہ سے اس ملک کا ایک بڑا حصہ جو کہ عالم سیارہ، مریخ کا باسی اور نہ ہو، تو غیر عربی داں قاری کو چاہیے کہ وہ الرسالہ کو لے کر قریب کے کسی عالم سے ملے۔ وہ اُس عالم کی مدد سے اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اِس طرح یہ ہوگا کہ الرسالہ کے قارئین کا تعلق علما سے بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں ان کو بہت سے دینی فوائد حاصل ہوں گے۔
الرسالہ کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ اس کے قارئین کا عمومی انٹریکشن بڑھے، جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لوگوں کا تعلق علما سے قائم ہو، اور اِسی طرح، علما کا تعلق جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لوگوں سے قائم ہو۔ اِس طرح، دونوں کے اجتماع سے دینی اور دعوتی فوائد کے علاوہ، ان کے لیے ذہنی ارتقا کا دروازہ کھلے، اور وہ زیادہ بہتر طور پر الرسالہ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا رول ادا کر سکیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21) ۔ یعنی اللہ کے رسول میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اس آیت میں ’اسوہ‘ کسی محدود معنی میں نہیں ہے، وہ پیغمبر کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ پیغمبر اپنی پوری زندگی کے اعتبار سے، اہلِ ایمان کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عموم میں استثنا صرف کسی ایسی چیز کا ہو سکتا ہے جس کو صراحتاً پیغمبر کے ساتھ خاص کیا گیا ہو۔ مثلاً ازدواج کے معاملے میں بعض پہلوؤں سے آپ کے ساتھ استثنا کا معاملہ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ (33:50) ۔ یعنی یہ خاص تمھارے لیے ہے، سب مسلمانوں کے لیے حقیقت یہ ہے کہ رسول کا ہر قول اور ہر فعل امت کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہوگا، الا یہ کہ رسول کے کسی فعل کو صراحتاً رسول کی ذات کے ساتھ خاص کیا گیا ہو۔
بوزیوں کے ساتھ رازداری کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔