Al-Risala · March 2019

محرومی ایک نعمت

Al-Risala, March 2019, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

مئی 2000 میں میں نے بہار کا سفر کیا۔ اس سفر میں مجھے بتیا (بہار) کا یتیم خانہ دیکھنے کا یہ یتیم خانہ 1928 سے قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بچہ یا بچی کا یتیم ہونا کوئی برائی یہ ایک نعمت ہے جو فطرت کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے۔ اگر یتیم ہونا نعمت نہ ہوتا تو اللہ تعالی پیغمبر اسلام کے لیے یتیمی کا انتخاب نہ فرماتے۔ یتیم ہونا کسی بچہ یا بچی کے لیے قدرت کی طرف سے ایک خوشخبری ہے۔ اس بات کی خوشخبری کہ تم کو زندگی کے سفر کے لیے وہ کورس عطا کیا گیا ہے جو اس انسان کو عطا ہوا جس کے بارے میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم حضرات بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ بشری کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔ یتیم بچہ یا بچی کو پیدا ہونے کے بعد دنیا میں اپنے فطری امکان کو بروئے کار لانے کے لیے اور کیا چیز ملنی چاہیے اس کا اشارہ اس قرآنی آیت میں ملتا ہے: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى (93: 6)۔ یعنی کیا اللہ نے تم کو یتیم نہیں پایا، پھر اس نے تم کو ٹھکانا دیا۔ اپنے آغاز حیات میں اپنی زندگی کی تعمیر کے لیے ایک ماؤی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ یتیم خانہ اور اسی طرح تمام یتیم خانے اسی آیت کی عملی وہ یتیموں کو ماؤی فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے کام کو میں اپنی زبان میں منصوبہ خداوندی سمجھتا ہوں۔

ایک صاحب نے اپنا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں بچپن میں یتیم ہو گیا تھا۔ داروں نے مجھے یتیم خانہ میں داخل کر دیا۔ میرے ساتھ دو یتیم بچے اور تھے۔ ہم تینوں نے یتیم بچوں کی حیثیت سے یتیم خانہ میں پرورش پائی۔ اس وقت بظاہر ہمارا کوئی مستقبل نہ تھا۔ مگر آج ہم تینوں اللہ کے فضل سے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کے اسی یتیم ہونے کا نتیجہ ہے۔ کی حالت بہترین حالت ہے۔ یتیمی آدمی کے اندر خودشناسی پیدا کرتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر خود کفیل

بننے کا جذبہ ابھارتی ہے۔ یتیم آدمی سمجھتا ہے کہ میرا کوئی سہارا نہیں، اس لیے مجھ کو خود ہی سارا عمل اس طرح وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ یتیمی کے حالات آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔

Printed page