میں خدا کو پانا چاہتا ہوں
Al-Risala, April 2019, pp. 5–8
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب اپنے ای میل میں لکھتے ہیں : میں خدا کو پانا چاہتا ہوں۔ تقریباً 20/21 سال سے آپ کی کتابیں ، اور ماہنامہ الرسالہ پڑھنے والوں میں سے ہوں۔ تذکیر القرآن کا تقریباً ہر روز مطالعہ کرتا ہوں ۔ سائنٹفک ریسرچ اور کائنات پر غور کرنے سے بھی یہ بات ثابت تو ہو جاتی ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے۔ لیکن میں ذاتی طور پر خدا کو پانا چاہتا ہوں۔ شاید میں اس کو پانے کی قیمت ادا نہیں کر پا رہا ہوں ۔ بقول آپ کے اپنی ہستی کو مٹانا ہے۔ روزانہ دعا کرتا ہوں کہ خدا مل زندگی میں کوئی لطف باقی نہیں رہا۔ ایک بے مزہ زندگی سے اکتا گیا ہوں۔ کیا آپ سے کوئی رہنمائی مل سکتی ہے۔
آپ سے رہنمائی چاہنے کی دو وجہیں ہیں۔ ایک ، آپ کی تحریر آج سے 21 سال پہلے بنا کسی انسانی مداخلت کے بالکل معجزاتی طور پر مجھے اس وقت ملی ، جب کہ میں روزانہ موت کی تمنا کیا کرتا پورا واقعہ لکھنا مشکل ہے۔ مختصر یہ کہ گویا کوئی ان دیکھی طاقت ہے ، جو مجھے زندہ رکھنا چاہتی دوسری، میری معلومات کے مطابق ، آپ واحد انسان ہیں ، جو خدا کو پانے کا پورے یقین کے ساتھ دعویٰ کر سکتے ہیں ۔ کیا مجھے بھی خدا مل سکتا ہے، کیسے؟ (ایک قاری الرسالہ، ممبئی) اس سوال کا جواب یہ ہے کہ خدا کو پانا، دراصل ایک پائی ہوئی حقیقت کو دوبارہ دریافت کرنا خدا کو پانا دراصل غیر شعور کو شعور بنانا ہے۔ یعنی جو چیز غیر شعوری طور پر ملی ہوئی ہے، اس کو شعوری طور پر اپنی یافت بنانا ہے۔ خدا آپ کا خالق ہے، اور اس نے آپ کو غیر موجود سے موجود کیا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ آپ کی زندگی میں شامل ہے، وہ خود بخود آپ کو ملا ہوا ہے۔ مگر یہ پانا غیر شعوری اعتبار سے ہے۔ اب آپ کا کام یہ ہے کہ آپ غیر شعوری طور پر ملی ہوئی چیز کو شعوری طور پر دریافت کر لیں۔ خدا کو پانا بظاہر ایک مشکل کام معلوم ہوتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ سب سے زیادہ آسان کام ہے۔
آپ سوچیے کہ جب آپ ماں کے پیٹ میں تھے، اسی وقت آپ کی ضرورت کی تمام چیزوں کی سپلائی باقاعدہ طور پر شروع ہو گئی تھی۔ یہ کون تھا، جس نے آپ کے لیے آپ کی ضروریات کی کامل فراہمی کا انتظام کیا۔ پھر جب آپ ماں کے پیٹ سے نکلے، تو آپ نے پایا کہ آپ کے لیے یہاں مکمل معنوں میں ایک لائف سپورٹ سسٹم (life support system) موجود ہے۔ جب آپ بڑے ہوئے، اور آپ دنیا میں چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو آپ نے پایا کہ پوری یونیورس آپ کے لیے کسٹم میڈ یونیورس (custom-made universe) ہے۔ اس قسم کے تجربات جو آپ کو ہر لمحہ پیش آتے ہیں، وہ گویا ملی ہوئی چیز کو آپ کے لیے ایک دریافت کردہ حقیقت (discovered reality) بنا رہے ہیں۔
میں جب پہلی بار امریکا گیا، تو وہاں ایرپورٹ کے باہر نکلتے ہوئے میں نے جو پہلی چیز دریافت کی، وہ یہ تھی کہ کیسا عجیب ہے وہ خالق جس نے میرے لیے زندگی بخش آکسیجن کی سپلائی کا نظام انڈیا میں بھی قائم کر رکھا تھا، اور امریکا میں بھی اس کا تسلسل بلا انقطاع جاری ہے۔ یہ تاثر اتنا شدید تھا کہ میں نے چاہا کہ میں روڈ پر اپنے خالق کے لیے سجدے میں گر پڑوں۔ اسی طرح دوسرے تمام تجربات ہر لمحہ میرے لیے خدا کی یاد کے ریمائنڈر بنے رہتے ہیں۔ یہی وہ یاد دلانے والے واقعات ہیں، جن کا ذکر قرآن کی اس آیت میں آیا ہے: وَکَاَيِّنْ مِنْ اٰيَةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ (12:105)۔ یعنی اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے۔
جو لوگ صبح و شام ان نشانیوں کے درمیان زندگی گزاریں، مگر ان کا حال یہ ہو کہ ان کے پاس دماغ ہو مگر وہ نہ سوچیں، ان کے پاس آنکھیں ہو مگر وہ نہ دیکھیں، ان کے پاس کان ہو مگر وہ نہ سنیں، ایسے لوگ خالق کے نزدیک اندھے بہرے ہیں۔ ان کو صرف قیامت کا انتظار کرنا چاہیے۔ صور اسرافیل کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے، جو ان کو غفلت کی نیند سے جگائے۔ خالق کی معرفت کوئی سادہ چیز نہیں۔ خالق کی معرفت جنت الفردوس کی قیمت ہے۔
الفردوس) اس کے لیے ہے جو خدا کو دیکھے بغیر دیکھے، جو خدا کی جنت میں داخل ہو۔ نے سے پہلے اس کو الفردوس اس کے لیے ہے جو خدا کو دے بغیر دیکھے، جو خدا کی جنت میں داخل ہو کے سے پہلے اس کو خدا کو پانے کی توفیق اس کو ملتی ہے، جو خدا کے لیے غیر خدا کو چھوڑنے پر راضی رزیات رہے ۔ خدا نہ ہو پائے اس میں اس کی ، ہر خدا سے یہ مدعا ہو
نے ان الیاس کو بھلا کام کرنا تھا اس میں پینا کہ آمدی کو ٹول سکر کے، رنے زندگانی کا ریشہ تھا ہر انسان کو پہلا کام یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈسکور کرے ۔ یہ زندگی کی شروعات ہے۔ سیلف ڈسکوری کے بغیر اپنی زندگی میں کوئی چوائس لے لیں تو آپ کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ آپ کو غیر مطلوب انجام کی طرف لے جائے گا۔ اس منفی رزلٹ کے بعد آپ چاہیں گے کہ آپ سیکنڈ چوائس لیکن سیکنڈ چوائس آپ کو دوسری ناکامی کی طرف لے جاسکتی ہے۔ اس سے بچنے کا صرف ایک وہ یہ کہ آپ ریلسٹک اپروچ کو اختیار کریں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آئڈلزم ہمیشہ ناکامی کی طرف لے جاتی ہے۔ جب کہ پریگمیٹک اپروچ کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ لیکن یہ آئڈیل ٹرم جب نہ ہو، بلکہ اوپر کی کامیابیوں کی بات ہے میں نہیں ہوتا، بلکہ یہ پریگمیٹزم کے سنس میں ہوتا ہے۔
اعتدال کیا ہے ہو رہا ہے۔ کسی کو حق ہے کہ کسی مستقیماں ہو رہا ہے۔
اعتدال کا اصول، کسی اصولی موقف کی طرح کسی مستقل اصول پر مبنی نہیں ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کے اصول پر مبنی ہے۔ یعنی جس موقعے پر خالص اصولی موقف بظاہر قابل عمل (practical) نہ ہو، وہاں حالات کو دیکھتے ہوئے رعایت کا طریقہ اختیار کیا جائے، اور ایسے موقف کو اختیار کیا جائے، جس میں نقصان بھی کم ہو، اور اختلاف کی صورت ختم ہو جائے۔ مثلاً پراپرٹی کی تقسیم کا معاملہ ہو، اور دو آدمیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے، تو دونوں پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ نزاع کی صورت کو ختم کرنے کے لیے ایک ایسے درمیانی حل پر راضی ہو جائیں، جس میں بظاہر نظری انصاف تو نہ ہو، لیکن اس سے نزاع کی صورت ختم ہوتی ہو۔ حل پر راہی ہو جاتا ہے، اس میں بظاہر طرفی انصاف نہ ہو، لیکن اس سے ہر اس ح ایسے حل کو پریکٹیکل وزڈم پر مبنی حل کہا جاتا ہے۔
صورت مں ہوی ہو۔
خوراک ایک معجزہ 4 (کات کے برٹش شاعر والٹر ڈی لا میٹر [1873-1956] (Walter de la Mare) کا ایک شعر وہ کہتا ہے ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ مس ٹی (انسان) جو کچھ کھاتا ہے، وہ اس کے اندر داخل ہو کر اس کا جز بن جاتا ہے :
یہ بات بلاشبہ بہت ہی زیادہ عجیب ہے کہ انسان کی خوراک، خواہ وہ زمینی خوراک ہو، یا حیوانی خوراک اس کے پیٹ میں داخل ہوتی ہے۔ ایک بے حد پیچیدہ نظام اس کو ہضم (digest) انسان کے جسم میں دوسو سے زیادہ قسم کے خلیات (cells) ہیں۔ یہ سیل جسم کے مختلف حصوں کا پارٹ بنتے ہیں۔ یہ سیل برابر بدلتے رہتے ہیں۔ انسان کا جسم انھیں سیل کا مجموعہ ہوتا ہے۔ پیدائش سے موت تک انسان کے جسم کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ یہ ایک بے حد عجیب قسم کا جسمانی نظام ہے، جو ہر عورت اور مرد کو مفت میں حاصل رہتا ہے۔ اس کے علاوہ انسان کے وجود سے باہر کی پوری دنیا، انسان کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کا کام کرتی ہے۔
انسان کے جسم میں تقریباً اسی آرگن ہوتے ہیں، یہ تمام آرگن انتہائی مربوط انداز میں کام اس طرح انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے تمام کام انجام دے سکے۔ مزید یہ کہ یہ تمام آرگن خود کار مشین کی طرح کام کرتے ہیں۔ انسان کے ارادے کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ کی بے شمار چیزیں ہیں، جو انسان کے جسم میں ہر وقت متحرک رہتی ہیں۔ تب انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال انجام دے سکے۔ انسان اگر اپنے وجود کے اس فطری انتظام کو لے کر سوچے تو وہ شکر کے سمندر میں غرق ہو جائے، ناشکری کا کلمہ کبھی اس کی زبان سے نہ نکلے۔ واریزے تدور میں تارجات ہوں، یہ معاملہ اس کی رہائی کا