لو پروفائل میں کام کرنا
Al-Risala, April 2019, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت میں پیغمبر یعقوب کی اپنے بیٹوں کو نصیحت ان الفاظ میں آئی ہے: يَابُنَيَّ لَا تَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ (12:67)۔ یعنی اے میرے بیٹو! ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا۔
قرآن کی اس آیت میں تدبیر کار کا ایک طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ طریقہ فقہ کی اصطلاح میں غیر جہری طریقہ ہے۔ یعنی اپنا مشن اس انداز میں چلانا کہ فریق ثانی اس کو اپنے لیے خطرہ نہ سمجھے۔ آخر وقت تک کام کرنے والوں کو کام کرنے کا موقع دے۔ اس طریق کار کو اگر جدید اسلوب میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ لوپروفائل (low profile) میں کام کرنا۔ یعنی کام کو ایسے انداز میں کرنا جس سے فریق ثانی اس کو اپنے لیے چیلنج نہ سمجھے، اور اس طرح کام کرنے والوں کو آخر وقت تک کام کرنے کا موقع ملتا رہے۔ اس کے مقابلے میں جو طریقہ ہے، اس کو ہائی پروفائل کا طریقہ کہا جاتا ہائی پروفائل میں فریق ثانی فوراً ہی چوکس ہو جاتا ہے، اور جوابی کارروائی شروع کر دیتا ہے۔ جب کہ لو پروفائل میں فریق ثانی کام کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتا۔ اس بنا پر اس کو نظر انداز کرتا رہتا
اس طریق کار کے لیے حدیث رسول میں ایک حوالہ موجود ہے۔ پیغمبر اسلام نے جب مکہ کی فتح کا ارادہ کیا تو آپ نے اس معاملے میں بہت زیادہ لو پر فائل سے کام لیا۔ سیرت ابن ہشام میں اس واقعے کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: وأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجهاز، وأمر أهله أن يجهزوه، فدخل أبو بكر على ابنتہ عائشة رضي الله عنها، وهي تحرك بعض جهاز رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أي بنية : أأمركم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن قالت: نعم، فتجهز، قال: فأين ترينه يريد؟ قالت: (لا) والله ما أدري. ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعلم الناس أنه سائر إلى مكة، وأمرهم بالجد و التهيؤ، وقال:
اللهم خذ العيون والأخبار عن قريش حتى نبغتها في بلادها (سیرت ابن ہشام، یعنی رسول اللہ ﷺ نے تیاری کا حکم دیا۔ اور اپنی اہلیہ کو کہا کہ وہ اس کے سفر کی تیاری کا کام جب ابو بکر اپنی بیٹی عائشہ کے پاس آئے ، اس وقت وہ رسول اللہ کے سفر کی کچھ تیاری کا کام کر رہی تھیں ، تو پوچھا: بیٹی رسول اللہ نے کسی سفر کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ عائشہ نے کہا: ہاں، سامان سفر کی تیار کرنے کا۔ ابوبکر نے پوچھا، تمھارے خیال سے کہاں کا ارادہ ہے۔ عائشہ نے کہا، اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم۔ پھر رسول اللہ نے لوگوں کو خبر دیا کہ وہ مکہ کی طرف کوچ کرنے والے ہیں، اور ان کو تیاری کا حکم دیا۔ اس وقت یہ دعا کی : اللہ، تو قریش کی آنکھوں اور خبروں کو روک دے۔ یہاں تک کہ تو ہم کو ان کے شہر میں پہنچادے۔
خلاصہ یہ ہے کہ کام کا ایک طریقہ شور وغل کے ساتھ کام کرنا ہے، اور دوسرا طریقہ ہے حکیمانہ شور وغل کے ساتھ کام کرنا نبی کا طریقہ نہیں۔ نبی کا طریقہ وہ ہے، جس میں خاموش تدبیر کا انداز اختیار کیا گیا ہو۔ کامیابی ہمیشہ خاموش تدبیر والے کام میں ہوتی ہے، نہ کہ شور وغل والے طریقے میں۔ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر بیک وقت دو آزادانہ نظام قائم ہیں— انا (ego)، اور دوسرا ضمیر (conscience)۔ یہ دونوں نظام ایک دوسرے سے آزاد ہیں۔ انسان کے اندر انا (ایگو) کا نظام پوری طرح آزاد ہے، اور آزادی کے تحت وہ خود جیسا چاہے، اس کے مطابق، فیصلہ لے سکتا ہے، یعنی صحیح بھی اور غلط بھی۔ لیکن ضمیر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس کے کنٹرول کا نظام بالکل الگ ہے۔ ضمیر اگر چہ انسان کی شخصیت کا ایک حصہ ہے، اور اپنے عمل میں وہ پوری طرح آزاد انسان اگر اپنی زندگی میں صحیح راستہ اختیار کرے، تو ضمیر خاموش زبان میں اس کی تصدیق کرتا ہے، اور اگر انسان غلط راستے پر چل پڑے تو ضمیر فوراً اس کو وارننگ دیتا ہے کہ تم غلط راستے پر چل پڑے ہو، اور غلط راستے پر چلنے کا انجام اس سے مختلف ہوگا، جو صحیح راستے پر چلنے کا ہوتا ہے۔ نظام گویا ایک غیبی آواز ہے، جو بروقت انسان کی رہنمائی کے لیے متحرک ہو جاتا ہے۔