خاتم النبیین
Al-Risala, April 2019, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الاحزاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّـبِیّٖنَ (33:40) ۔ یعنی محمد، اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے متعدد پہلو ہیں۔ اُس کارِ ایک پہلو یہ ہے کہ نبوت اب شخصی عمل کے طور پر باقی نہ رہی، البتہ کا نبوت اب دعوتی عمل کے طور پر مسلسل جاری یہ پیغمبر اسلام کی ایک استثنائی صفت ہے۔ دوسرے پیغمبروں کے معاملے میں یہ ہوا کہ پیغمبر کا نام لینے والوں کا ایک گروہ تو ضرور باقی رہا، لیکن پیغمبر کی حقیقی دعوت کسی تبدیلی کے بغیر اپنی اصل صورت میں جاری رہنے کا امکان ختم ہو گیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد یہ ہوا کہ ایک نیا دورِ دعوت وجود میں آیا، وہ تھا ـــ براہ راست پیغمبر کی ذات کے ذریعے دعوت کے دور کا خاتمہ، اور پیغمبر کے ماننے والوں کے ذریعے دعوت کے دور کا آغاز:
End of Dawah through the Prophet, beginning of Dawah through the followers of the Prophet, continuation of prophetic role through the followers of the Prophet. قرآن کی سورہ نمبر 48 معاہدہ حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ معاہدۂ حدیبیہ امن کا معاہدہ تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کیا تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کا مقصد تھا جنگ کے حالات کو ختم کر کے امن کے حالات پیدا اس معاہدے کے بعد پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان مکمل طور پر جنگ بندی ہو گئی اور طرفین کے درمیان امن کی حالت قائم ہو گئی ۔ اس کے بعد معتدل حالات میں دعوتی کام کرنا ممکن امن کا یہ معاہدہ پوری تاریخ کا ایک انوکھا معاہدہ تھا۔ یہ فریقِ ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر انجام پایا تھا۔ بظاہر وہ پسپائی کا ایک معاہدہ تھا، لیکن معاہدے کی تکمیل کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری: اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا - لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ
وَيَهْدِيَكَ صِرَاطاً مُّسْتَقِيمًا ۔ وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْراً عَزِيزًا (48:1-3)۔ یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی، تا کہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کر دے، اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔ تاریخ کے مطابق، معاہدۂ حدیبیہ کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سیاسی فتح حاصل یہ معاہدہ بظاہر فریق ثانی کے مقابلے میں شکست کا واقعہ تھا، نہ کہ فتح کا واقعہ۔ باوجود قرآن میں کیوں اُس کو فتح مبین کہا گیا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد دعوت کے تمام مواقع کھل گئے۔ یہ مواقع اتنے غیر معمولی تھے کہ معاہدے کے بعد صرف دو سال کے اندر پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کی تعداد پانچ گنا زیادہ ہوگئی۔ اور جنگ کے بغیر صرف زیادہ تعداد فیصلے کے لیے کافی ہوگئی۔ حدیبیہ دراصل ایک عظیم پالیسی کا نام ہے۔ یہ پالیسی تاریخ میں پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو بتائی، یعنی حالت موجودہ کو مان کر ٹکراؤ ختم کر دو، تا کہ مواقع (opportunities) کو استعمال کرنا ممکن ہو سکے :
Hudaybiyah means the policy of positive status quoism. And positive status quoism is the key to super صلح بہتر ہے قرآن کی سورہ النساء میں یہ آیت آئی ہے: اَلصُّلحُ خَيْرٌ (4:128) یعنی صلح بہتر ہے۔ گویا امن کا طریقہ سب سے زیادہ کارگر طریقہ ہے: