پیغمبر انقلاب
Al-Risala, April 2019, pp. 23–25
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذکر ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی (مسند احمد، حدیث نمبر 22288)۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پیغمبر اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔
پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طور پر توحید کا پیغام لے کر آئے ،لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کو اپنے اصحاب کی صورت میں ایک مضبوط ٹیم مل گئی ۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر عملی انقلاب کے درجے تک پہنچا دیا جائے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں یہ انقلاب عملی طور پر پیش آیا اور پھر وہ تاریخ بشری کا ایک معلوم اور مسلم حصہ بن گیا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ صرف آپ کے پیروؤں کے لیے ایک ’’روایتی عقیدہ‘‘ کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ ایک مسلمہ تاریخی واقعہ ہے۔ آخر الزماں سے پہلے جو انبیا آئے ، اُن کی زندگی مدوّن تاریخ کا جز نہ بن سکی، مگر پیغمبر اسلام کا معاملہ بالکل آپ کی حیثیت ایک مسلم تاریخی پیغمبر کی ہے، آپ کی نبوت پورے معنوں میں ایک ثابت شدہ نبوت ہے۔ انسانی زندگی کے جس پہلو کو بھی دیکھا جائے ، اُس میں پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ابدی تعلیم کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیں گے۔ وہ تمام بہترین روایات اور وہ تمام اعلیٰ قدریں جن کو آج اہمیت دی جاتی ہے، وہ سب پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے عظیم انقلاب کے براہِ راست نتائج ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ تاریخ کے سب سے بڑے انسان کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو انسانِ کامل بنا کر انسانی نسل پر اپنا سب سے بڑا احسان فرمایا ہے۔ پیغمبرِ آخر الزماں کی شکل میں تاریخ میں ایک ایسا بلند ترین مینار کھڑا کر دیا ہے کہ آدمی جس طرف بھی نظر اٹھائے، وہ آپ کو دیکھ لے۔ جب وہ اپنے رہ نما کی تلاش میں نکلے تو اُس کی نظر سب سے پہلے آپ پر پڑے ۔ جب وہ حق کا راستہ جاننا چاہے تو آپ کا روشن اور بلند و بالا وجود اُس کو سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کرلے۔ آپ ساری انسانیت کے لیے ہادیِ اعظم اور رہبر کامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے خدا نے آپ کو نبیوں کے خاتم (الاحزاب، 33:40) کی حیثیت سے مبعوث فرمایا۔ دوسرے انبیا صرف اللہ کے رسول تھے، اور آپ اللہ کے رسول ہونے کے ساتھ خاتم النبیین بھی۔ میری کتاب ’پیغمبرِ انقلاب‘ پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس وقت میں نے اس کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو الفاظ لکھے تھے، وہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی نشان راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو محمودیت کے مقام پر کھڑا کیا ہے (17:79)۔ چناں چہ نہ صرف اہل اسلام بلکہ عام مصنفین اور مؤرخین نے آپ کی عظمت کو کھلے طور پر تسلیم کیا ہے۔
بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم قوموں اور مسیحی قوموں کے درمیان لڑائیاں پیش آئیں، جن کو صلیبی جنگ (Crusades) کہا جاتا ہے ۔ ان جنگوں میں مسیحی قوموں کو شکست ہوئی ۔ اُس کے بعد مسیحی مصنفین نے اسلام کے خلاف ایک قلمی جنگ چھیڑ دی۔ کثرت سے ایسی کتابیں لکھی گئیں جن میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ لمبی مدت تک اس سلسلے کو توڑنے والا پہلا قابل ذکر شخص اسکاٹ لینڈ کا ایک مصنف ٹامس کارلائل (وفات 1881) ہے ۔ اُس نے جرات مندانہ طور پر اس رجحان کو بدلا۔ اُس کی مشہور کتاب آن ہیرو، ہیر وو ر شپ ہے:
On Heroes, Hero-Worship, and the Heroic in History (James Fraser, London, 1841)
اس انگریزی کتاب میں اُس نے پیغمبر اسلام کی مثبت تصویر پیش کی۔ اُس نے پیغمبرِ اسلام
کو ہیرو کا درجہ دیا۔ اس کتاب کا متعلق باب یہ ہے: